امریکہ بھارتی دباؤ برداشت نہیں کر سکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ نے بالاخر جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی رقم بطور انعام رکھ دی ہے۔ یہاں دو باتیں قابل حیرت ہیں ایک تو انعامی رقم کی مقدار اور دوسرا اس طرح انہیں دی جانے والی اہمیت۔

پاکستان میں بغیر کسی روکاوٹ کے گھومنے پھرنے والے کسی شخص پر اس بڑی انعامی رقم کا اعلان تعجب خیز ہے۔ انہیں امریکیوں نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری پر اڑھائی کروڑ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔

اس درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں نے حافظ سعید کو دوسرے نمبر پر طالبان رہنما ملا محمد عمر اور عراق کے ابو دعا اور شام کے یاسین السوری کے برابر اپنے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

اس حیرت میں مزید اضافے کی وجہ حافظ سعید کو پاکستانی طالبان رہنما حکیم اللہ محسود، ان کے نائب ولی الرحمان اور کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں مطلوب قاری ظفر سے زیادہ اہمیت دینا بھی ہے۔

امریکہ نے ان تینوں پاکستانیوں پر محض پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔ اس انعامی رقم کے اعلان میں امریکہ سے زیادہ بھارت کا ہاتھ یا دباؤ دکھائی دیتا ہے اور بھارت میں اسے یقیناً ان کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

حافظ سعید کے خلاف بڑا کیس دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والے ڈیڑھ سو سے زائد افراد میں پانچ امریکی بھی شامل تھے۔ جماعت الدعوہ اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہے۔

جماعت الدعوہ کی تنقید کی توپیں بھی زیادہ تر بھارت کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ امریکہ کے لیے اتنا بڑا مقدمہ نہیں بنتا تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بھارتی دباؤ برداشت نہیں کر سکا ہے۔

حافظ سعید آج کل دینی جماعتوں کے نئے اتحاد دفاع پاکستان میں کافی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں اور تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی وہ اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کرتے پائے گئے تھے۔

اس احتجاجی مظاہرے میں وہ نیٹو سپلائی نہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور بعض لوگوں کے خیال میں شاید امریکہ نے یہ تازہ قدم ان کی انہی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔

تاہم اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک شخص جو پاکستانی عدالت کے حکم پر آزاد کیا گیا اور اس کی جماعت کو بھی آزادنہ طور پر پرامن سرگرمیاں کرنے کی اجازت ہے تازہ امریکی اعلان کے بعد اپنی نقل و حرکت میں کیا تبدیلی لاتا ہے کیونکہ اب ان کا عوامی اجتماعات میں شریک ہونا حکومت پاکستان کو کافی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں