کراچی: شیعہ نوجوانوں کی ہلاکتوں پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں دو شیعہ نوجوانوں کو قتل کر دیا گیا ہے جس پر شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

شہر کے علاقے برنس روڈ پر منگل کی دوپہر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ میں نعیم عباس نامی نوجوان ہلاک ہوگیا، پولیس کے مطابق نوجوان کسٹم فارورڈنگ ایجنٹ کا کام کرتا تھا۔ موٹر سائیکل سواروں نے اسے نشانہ بنایا۔

اسی علاقے میں کچھ عرصہ قبل تین شیعہ وکلاء کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

کورنگی کے علاقے چکرا گوٹھ میں سید خادم حسین شخص فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا، پولیس کے کہنا ہے سیاسی جماعت کے کارکنوں میں تصادم کے دوران مقتول گولی کا نشانہ بنا ہے۔

دونوں نوجوانوں کے ہلاکت کے خلاف شیعہ آبادی والے علاقوں انچولی، رضویہ، گلستان جوہر میں مشتعل افراد نے احتجاج کیا ہے، جس کے دوران ٹائروں کو نذر آتش کیا گیا۔

سہراب گوٹھ کے قریب ایک گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے سپر ہائی وے پر گاڑیوں کی آمد رفت معطل رہی، پولیس نے شیلنگ کرکے مظاہرین کو مشتعل کیا۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین نے الزام عائد کیا ہے کہ گلگت اور کراچی میں ملت جعفریہ کے عمائدین کی دہشتگردی میں کالعدم گروہ اور ریا ستی ادارے ملوث ہیں۔

تنظیم کے سیکرٹری علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے ۔