’ہیلو‘ میگزین اب پاکستان میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میگزین کی پہلی اشاعت اپریل میں متوقع ہے۔

مقامی فیشن کی دنیا کو اجاگر کرنے کا عزم لیے ’ہیلو‘ میگزین پاکستان پہنچ گیا ہے۔ ہیلو کراچی میں چار دن کے ایک شاندار فیشن شو کے ساتھ متعارف کروایا گیا۔

میگزین کی پہلی اشاعت اپریل میں متوقع ہے۔ اس میگزین کے ناشر امید کرتے ہیں کہ فیشن اور گلیمر کی دنیا کے رنگ بھر کر وہ غیر ملکیوں کے ذہنوں میں پاکستان کے ساتھ منسلک خوف و ہراس کا خاکہ مٹا دیں گے۔

ہیلو کی ناشر زارا سیف اللہ کا کہنا تھا ’ ہم حسن و دانش اور معروف و مقبول کی عکاسی کریں گے۔‘

پاکستان میں پہلے ہی بہت سے ایسے میگزین موجود ہیں جو کہ اُمراء کے پُرآسائش روز و شب کو نظر بند کرتے ہیں تاہم اپنی طرز کے اس پہلے بین الاقوامی فرینچائز میگزین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کا انداز بیاں کچھ مختلف ہوگا۔

میگزین کی ایڈیٹر ان چیف مہوش امین کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ایک چمکتی ٹی وی انڈسٹری ہے، ایک ابھرتا ادبی پس منظر ہے اور آرٹ کی دنیا بھی جڑیں بچھا رہی ہے۔ ہم ان سب کو استعمال کریں گے۔ ہم سیاستدانوں، کھلاڑیوں، سرمایہ کاروں سب کی شخصیات پر بات کریں گے۔‘

امریکہ یا برطانیہ میں تو کسی مشہور شخصیت کا سڑک پر سے گزر جانا بھی خبر بن سکتا ہے تاہم پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

مہوش کا کہنا تھا ’اسی لیے ہم لوگوں کی کامیابیوں اور کاوشوں پر زیادہ زور دیں گے۔ ہم ان لوگوں پر زیادہ غور کریں گے جو اچھے کام کر رہے ہیں یا جنہوں نے اچھے کام کر رکھے ہیں۔ اس طرح ہم اپنی مشہور شخصیات خود پیدا کریں گے۔‘

اپنی والدہ اور نانی کو انٹرنیشنل ہیلو پڑھتے دیکھتے بڑی ہونے والی زارا سیف اللہ کا کہنا تھا کہ انہیں میگزین کو پاکستان لانے میں دو سال لگ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ہیلو کی بین الاقوامی انتظامیہ پاکستان آنے سے گریزاں تھی کیونکہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موضوع نہیں سمجھا جاتا۔

پاکستان میں انگریزی زبان کے جریدوں کی اشاعت کم ہی ہے جہاں شرحِ خواندگی بہت کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہیلو میگزین کراچی میں چار دن کے ایک شاندار فیشن شو کے ساتھ متعارف کروایا گیا۔

ہیلو کے ایک اور شریک مدیر وجاہت خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے میگزینوں کی کل اشاعت بہ مشکل تیس ہزار تک پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ ’ہیلو‘ کی قیمت پانچ سو روپے ہوگی جو کہ ملکی حالات کے مطابق کوئی چھوٹی رقم نہیں۔

اپنے تجارتی رازوں کو پسِ پردہ رکھتے ہوئے زارا سیف اللہ کا یقین ہے کہ ان کا میگزین پھر بھی کامیاب رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنی تحقیق کر رکھی ہے اور ہم انگریزی زبان کے مقبول ترین پاکستانی میگزین بن جائیں گے‘۔

فیشن کی دنیا کے تجزیہ کار معیز کاظمی کا خیال تھا کہ ’دو طرح کے لوگ یہ میگزین خریدیں گے۔ ایک تو وہ جو خود کو یا اپنے دوست احباب کو اس کے صفحوں میں تلاش کریں گے۔ دوسرے وہ جو میگزین میں یہ دیکھیں گے کون کون سے لوگ کیا کیا پہن رہے ہیں اور پھر مقامی درزیوں سے ان جیسے کپڑے بنوائیں گے۔‘

تاہم میگزین کے چند ناقدین بھی ہیں۔ لاہور کی ایک مذہبی تنظیم ’تنظیمِ اسلامی‘ کے منور باونی کا کہنا تھا کہ وہ یہ میگزین نہیں پڑھیں گے اور وہ اپنے بچوں کو بھی اس سے دور رہنے کی تائید کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے میگزین ان نظریات کو فروغ دیتے اور مقبول کرتے ہیں جو کہ نہ تو بنیادی طور پر اسلامی ہیں اور نہ ہی ہماری ثقافت کا حصہ۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ یہ میگزین نوجوانوں پر کیا اثر ڈالے گا۔

تاہم زارا کا کہنا ہے کہ ان کا میگزین سماجی طور پر ذمہ دار اور ثقافتی اقدار کے بارے میں حساس رہنے کے لیے کوشاں رہے گا۔

اسی بارے میں