کراچی میں ’خودکش‘ دھماکہ، چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بم دھماکے میں کم از کم چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے شہر کراچی میں ملیر ہالٹ کے علاقے میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا وہاں سے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی گزر رہی تھی جس میں ایس پی ملیر راؤ انوار سوار تھے۔

ڈی آئی جی طاہر نوید کا کہنا ہے کہ ہے یہ ایک خود کش حملہ تھا۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں تین سٹی وارڈن اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں جناح ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔ جناح ہسپتال کے کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد انور کے مطابق ان کے ہسپتال میں چار لاشیں اور چودہ زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمیوں کو زیادہ تر سینے اور سر پر زخم آئے ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بم دھماکے کے لیے ایک موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا ہے اور بظاہر ایس پی راؤ انوار کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے سب انسپکٹر کا کہنا ہے کہ بم چار کلو وزنی تھا اور اس میں بیئرنگ استعمال کیے گئے تھے۔

وزیرِ داخلہ سندھ منظور وسان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اس کے بعد ہی اس کے ذمہ داروں کے بارے میں کچھ کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے بیس بیس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

حملے میں محفوظ رہنے والے ایس پی ملیر راؤ انوار کا کہنا ہے کہ وہ دو وکلاء کے قتل کی تفتیش کے حوالے سے سیشن جج ملیر سے ملاقات کرنے جا رہے تھےکہ ملیر ہالٹ کے موڑ پر موٹر سائیکل سوار نے بکتر بند گاڑی کو ہٹ کیا، جس سے دھماکہ ہوا اور دھواں اٹھا، جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔

بقول ان کے دھماکے میں ان کا بھانجا اور ایک پولیس سپاہی زخمی ہوا اور باقی سکواڈ محفوظ ہے۔

راؤ انوار نے بتایا کہ ایک ماہ قبل سے یہ اطلاعات تھیں کہ اس قسم کا واقعہ پیش آسکتا ہے۔ اطلاع کے مطابق حملے میں ان کے ساتھ چوہدری اسلم اور رینجرز کے کچھ افسران کے نام شامل تھے جن کو نشانہ بنایا جائےگا۔

انہوں نے حملے کا ذمہ دار تحریک طالبان کو قرار دیا اور کہا کہ ان کے اکثر لوگ کراچی میں ڈکیتیوں اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں، انہیں مقامی مدد بھی حاصل ہے، اب جلد ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

واضح رہے کہ ایس پی راؤ انوار کو دھمکیاں ملتی رہیں ہیں جس کے باعث وہ آمدرفت کے لیے بکتر بند گاڑی استعمال کرتے تھے۔ اس سے پہلے کراچی میں ایس پی چوہدری اسلم کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جمعرات کی صبح پی آئی بی کالونی میں فائرنگ سے تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر دہنی بخش، مکرم اور نثار علاقے میں موجود چوکی پر ڈیوٹی پر تھے جہاں ان پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

اسی بارے میں