’حکومت کا تختہ الٹنے کا کوئی ارادہ نہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور اعجاز سے ملاقات کے لیے فوج کے سربراہ سے زبانی اجازت لی تھی: احمد شجاع پاشا

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا نے کہا ہے دو مئی کے واقعے کے بعد فوج کا موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے کو کسی بھی فوجی بغاوت کا علم پہلے سے ہی ہوجاتا ہے اور گُذشتہ برس دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد فوج کی طرف سے بغاوت کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

جمعرات کو متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کو دیے گئے بیان میں لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا نے کہا کہ برطانیہ میں امریکی شہری منصور اعجاز سے ملاقات کا مقصد فوج اور سول حکومت کے درمیان پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اس میمو کے اہم کردار منصور اعجاز کے بلیک بیری کے پیغامات کی امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سے تصدیق کا معاملہ اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت پر چھوڑ دیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احمد شجاع پاشا پہلی مرتبہ اس عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں ہونے والے اس کمیشن کے اجلاس میں کمیشن نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے استفسار کیا کہ دو مئی کے واقعے کے بعد منصور اعجاز کا یہ دعوٰی کہ پاکستا ن میں فوجی بغاوت کا خطرہ تھا کہاں تک درست ہے، جس پر احمد شجاع پاشا کا کہنا تھا کہ فوج کی طرف سے اس واقعے کے بعد بغاوت کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے احمد شجاع پاشا سے استفسار کیا کہ جب اُنہوں نے منصور اعجاز سے ملاقات کی تھی تو اس کی پیشگی تحریری اجازت آرمی چیف سے لی گئی تھی جس پر اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے آرمی چیف سے زبانی اجازت لی تھی۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ منصور اعجاز کے ساتھ لندن میں ہونے والی ملاقات میں اُنہوں نے منصور اعجاز اور حسین حقانی کے درمیان بیلک بیری کے پیغامات کے ثبوت بھی مانگے تھے تاہم اُنہوں نے اس کی کاپیاں دی تھیں جب کہ بلیک بیری سیٹ حوالے نہیں کیا تھا اس کے علاوہ اُنہوں نے ملاقات کے دوران کوئی گواہ بھی پیش نہیں کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ منصور اعجاز سے ملاقات کے بعد اس کی تفصیلات سے فوجی اور سول قیادت کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد ہی اس واقعہ کی تحقیقات کرنے کے لیے حسین حقانی سے استعفیٰ لیا گیا تھا تاہم حسین حقانی سے استعفی لینے کے سلسلے میں آئی ایس آئی کا کوئی کردار نہیں ہے۔

احمد شجاع پاشا نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی کی تصدیق کی اور کہا کہ اُن کی رائے میں میمو ایک حقیقت معلوم ہوتا ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

کمیشن نے احمد شجاع پاشا سے استفسار کیا کہ کیا اُنہوں نے منصور اعجاز کے علاوہ حسین حقانی کے زیر استعمال بلیک بیری بھی دیکھا تھا جس پر اُ؛نہوں نے کہا کہ اُنہوں نے اس ضمن میں حسین حقانی سے علیحدہ سے کوئی ملاقات نہیں کی۔

کمیشن کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا بیلک بیری پیغامات میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے جس پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ آئی ایس کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ بلیک بیری کے پیغام میں کی گئی تبدیلی کا پتہ چلا سکتی ہے۔

اس میمو سے متعلق درخواست گُزاروں کے وکلا نے بھی احمد شجاع پاشا پر جرح کی تاہم اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر جرح نہیں کی۔

کمیشن نے حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری سے استفسار کیا کہ اُن کے موکل پیش کیوں نہیں ہوئے جس پر زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ اپنے موکل کا بیان بھی ویڈیو لنک پر ریکارڈ کرنے کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر چکے ہیں۔ اُنہوں نے کمیشن سے استدعا کی کہ بہتر ہے کہ اس درخواست پر عدالت عظمٰی کا فیصلہ آجائے تو پھر کمیشن کوئی احکامات جاری کرے۔

اسی بارے میں