’حکومت پہلے ہی معاملات طے کر چکی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمیعت کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے ہی نیٹو سپلائی کا فیصلہ کر چکی ہے۔

جمیعت علماء اسلام (ف) نے امریکہ سے از سر نو سفارتی تعلقات کے بارے میں سفارشات تیار کرنے والی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کمیٹی کی کارروائی کا آئندہ حصہ نہیں بنیں گے۔

اس بات کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن نے جمعہ کو پارلیمان میں کشمیر کمیٹی کے سربراہ کے چیمبر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ سے پہلے ہی معاملات طے کر چکی ہے اور اب نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے پارلیمان کی منظوری چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات جب پارلیمان سے منظور ہوں گی تو اس وقت ان کی جماعت کو شرکت کرئے گی یا بائیکاٹ، اس بات کا فیصلہ ان کی جماعت بعد میں کرے گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کا جمعہ کو ہونے والا اجلاس مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر پیر تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی کی اب تک جو کارروائی ہوئی ہے اس بارے میں مسلم لیگ (ن) اپنی قیادت سے مشاروت کرنا چاہتی ہے اور اس لیے اجلاس ملتوی کیا گیا۔

کمیٹی کا آئندہ اجلاس پیر کو ہوگا جبکہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بھی پیر کی شام کو ہونا ہے۔

اسی بارے میں