’حقانی کی وطن واپسی کی ضمانت نہیں دی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے تین رکنی عدالتی کمیشن نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو بارہ اپریل کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال بلیک بیری سیٹ اور دیگر دستاویزات بھی ساتھ لائیں۔

کمیشن نے وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کو کمیشن کے احکامات حسین حقانی تک پہنچانے کو کہا ہے۔

دوسری طرف حسین حقانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اُن کے موکل کو سنگین تنائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ اُن کے موکل کا بیا ن ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کر رکھی ہے جس پر ابھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس سے قبل کمیشن نے وفاق کو امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو ملک میں واپس لانے کے لیے چار آپشنز دیے جبکہ وفاق کے نمائندے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے حسین حقانی کو وطن واپس لانے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن کی طرف سے دیے جانے والے چار آپشنز میں حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے علاوہ اُن کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے ، حسین حقانی کی جائیداد کی ضبطگی اور اُن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہے۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران حسین حقانی کے بیرون ملک جانے سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم بھی پڑھ کر سُنایا گیا۔

کمیشن کے سربراہ نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے استفسار کیا کہ اُنہوں نے کہا تھا کہ حسین حقانی کو بیرون ملک جانے دیں جب وہ کمیشن کو مطلوب ہوں گے تو اُنہیں بُلالیا جائے گا جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے حسین حقانی کے بیرون ملک سے واپس آنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کمیشن جو چاہے آپشن استعمال کرسکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حسین حقانی کو نوٹس جاری کیا جائے جس پر کمیشن کا کہنا تھا کہ کمیشن تین نوٹس حسین حقانی کو بھجوا چکا ہے لیکن کسی پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کی ملک میں واپسی سے متعلق اُن کے وکیل زاہد بخاری ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسین حقانی صرف ایک بیان دینے کے لیے ملک میں نہیں آرہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی کیا ساکھ رہ جائے گی جبکہ ایک سفیر کو ملک میں واپس لانے کے لیے کچھ نہیں کیا جارہا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ احمد شجاع پاشا کے وکیل ایس ایم ظفر نے کہا کہ کمیشن حسین حقانی کو وزارت داخلہ کے ذریعے طلب کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے سابق سربراہ مائیک مولن کو بُلانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل فارن ڈیسک سہیل خان نے متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے بیان میں کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے گُزشتہ برس پانچ مئی کو واشگٹن سے لندن جانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سابق سفیر نے اس دورے کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے اہلکار نے حسین حقانی اور حکومت کے درمیان گُزشتہ برس ہونے والی خط وکتابت کا ریکارڈ بھی کمیشن کے سامنے پیش کیا۔

کمیشن کے استفسار پر ڈائریکٹر جنرل فارن ڈیسک کا کہنا تھا کہ بطور سفیر حسین حقانی کے زیر استعمال دونوں موبائل فون پاکستانی حکومت کی ملکیت ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان موبائل فون کے بل بھی حکومت ہی ادا کرتی ہے۔

کمیشن کے سربراہ قاضی فائز عیسیٰ نے سہیل خان سے استفسار کیا کہ اُنہوں نے یہ موبائل سیٹ حسین حقانی سے واپس کیوں نہیں لیے جبکہ اُنہوں نے اپنا استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ اس پر دفتر خارجہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں متعلقہ محکمے سے پوچھ کر بتائیں گے۔

حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ وہ وزارت خارجہ کے اہلکار پر جرح کرنا چاہتے ہیں لہٰذا اُنہیں اُس ریکارڈ کی کاپی فراہم کی جائے جو سرکاری اہلکار نے کمیشن کو جمع کروایا ہے۔

اسی بارے میں