خودکش حملے میں پشتو فنکار کی ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں پشتو زبان کے معروف اسٹیج اداکار اور کمپئر لعل بادشاہ بابر جمعرات کو ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر ہونے والے اس حملے میں جو تین راہ گیر ہلاک ہوئے اُن میں پچپن سالہ لعل بادشاہ بابر بھی شامل تھے۔ وہ گھر کے لیے سودا سلف لینے اور اپنا شوگر ٹیسٹ کرانے باہر گئے تھے کہ اس حملے کی زد میں آگئے۔

ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے لعل بادشاہ گزشتہ پینتالیس سال سے کراچی میں مقیم تھے۔

لعل شاہ نے چالیس سال سے کراچی میں پشتو فلموں، ڈراموں اور اسٹیج پروگراموں سے وابستہ تھے۔ انہوں نے سینکڑوں سٹیج پروگراموں اور ایک درجن سے زائد ڈراموں اور فلموں میں بھی کام کیا۔

انہوں نے آصف خان کی فلم شیردل خان اور بدر منیر کے ساتھ، بے گناہ، مجرم، باشی خان اور خونی درندے سمیت کئی فلموں میں کام کیا۔

لعل بادشاہ بابر کے قریبی دوست اور پشتو زبان کے شاعر سرور شمال نے بتایا کہ لعل بادشاہ کا شمار کراچی میں پشتو سٹیج کلب کے بانیوں میں ہوتا تھا۔

انہوں نے کراچی میں پشتو سٹیج ڈراموں کو بھرپور انداز میں جلا بخشی۔

انہوں نے نہ صرف کراچی میں سٹیج پروگراموں کو آرگنائز کیا بلکہ نئے آنے والے فنکاروں کو تربیت بھی دیتے رہے۔

سرور شمال نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں پشتو سٹیج پروگراموں میں جتنے بھی لوگ نظر آتے ہیں وہ کسی نہ کسی درجے میں لعل بادشاہ کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ رائٹر، پروڈیوسر اور ایک بہترین ایکٹر تھے۔

سرور شمال کے مطابق لعل بادشاہ نے بدر منیر اور آصف خان سمیت کئی نامور فنکاروں کو کراچی میں متعارف کرایا۔

سرور شمال نے بتایا کہ لعل بادشاہ کچھ عرصہ قبل ڈراموں اور سٹیج پروگراموں سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور گزشتہ ایک سال سے انہوں نے کسی بھی پروگرام میں حصہ نہیں لیا، اور اس عرصے میں وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوگئے تھے۔

آرٹسٹ ناصر بونیری نے اس بات پر انتہائی دکھ اور رنج کا اظہار کیا کہ جس وقت لعل بادشاہ اس حملے کی زد میں آئے اُس وقت ان کے پاس اچھی خاصی رقم موجود تھی مگر نامعلوم افراد نے ان کو بعد از مرگ لوٹ لیا۔ ناصر بونیری نے لعل بادشاہ کی موت کو پشتو فلم اور سٹیج کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ لعل بادشاہ کے خیبر پختون خوا،کوئٹہ اور افغانستان کے فنکاروں کے ساتھ گہرے مراسم تھے اور ان فنکاروں کے ساتھ وہ کراچی میں پروگرام منعقد کرتے تھے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لعل بادشاہ کے ورثا کو معاوضہ دیا جائے۔ کراچی میں جسے پشتونوں کا سب سے بڑا شہر قرار دیا جاتا ہے، پشتون فنکاروں نے اپنے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے اور شہر بھر میں پشتو ڈرامے اور ثقافی پروگرامات منعقد ہوتے ہیں۔

پشتو زبان کے شاعر سرور شمال نے بتایا کہ کراچی میں اگرچہ اب پروگرام زیادہ بننے لگے ہیں لیکن ان میں معیار کی کمی ہوتی ہے، اس لیے دیکھنے والوں کا رجحان بھی اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت لعل بادشاہ اور اختر منیر جسے فنکار موجود تھے پروگراموں کا معیار بہت اچھا تھا، لیکن اب ایک سال میں دو اہم فنکاروں کا دنیا سے چلے جانا پشتو فلم انڈسٹری کا بہت بڑا ضیاع ہے۔

اسی بارے میں