’قیامِ امن کے لیے بلاامتیاز کارروائی ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کے بارے میں آئینی پٹیشن کی سماعت کوئٹہ میں کی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ صوبے میں قیام امن کے لیے جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے اور انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس طارق پرویز اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ نے جمعہ کو تیسرے روز بھی بلوچستان میں امن وامان سے متعلق آئینی پٹیشن کی سماعت جاری رکھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر دو چار پولیس افسران کو جیل میں ڈال دیا جائے تو نہ کوئی اغواء برائے تاوان اور نہ ہی کوئی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوں گے۔

جمعہ کے روز پولیس نے ان سات میں سے چار افراد کو عدالت میں پیش کیا جو یکم مارچ کو سریاب روڈ سے لاپتہ ہوئے تھے۔

گزشتہ روز ان لاپتہ افراد کے ورثاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے سات رشتہ دار لاپتہ ہیں جس پر عدالت نے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان راؤ ہاشم آمین کوہدایت کی تھی کہ اس سات افراد کو جمعہ کے روز عدالت میں پیش کیاجائے بصورت دیگر آئی جی پولیس سمیت تمام اعلیٰ پولیس افسران کو معطل کیا جائےگا۔

اس پر پولیس نے سات میں سے چار افراد کو جمعہ کی صبح پیش کیا۔ بعد میں چیف جسٹس کے حکم پر ان چار افراد کی ان کے ورثاء سے ملاقات کرائی گی اور ان کے خلاف درج مقدمہ پر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص جرائم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور کسی کو ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کی جب عدالت کو بتایا گیا کہ مستونگ سے آج بھی دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر دو چار پولیس والوں کو جیل میں ڈال دیا جائے تو کوئی اغواء برائے تاؤان اور نہ ہی ٹارگٹ کلنگ ہوگی۔انہوں نے کہا ان وارداتوں کی وجہ پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ دینا ہے جس کے باعث سب کی جان اور مال غیر محفوظ ہیں۔

جمعہ کوسماعت کے دروان انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور عبیداللہ خان بھی سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔

انہوں نے صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے صدر میر صادق عمرانی کے بیان کے جواب میں ایک تحریری بیان جمع کروایا ہے۔ چند ہفتے قبل میرصادق عمرانی نے بلوچستان اسمبلی کے فلور پر آن ریکارڈ کہا تھا کہ جب وہ اسمبلی کے دیگر وزراء میرظفراللہ زہری، علی مدد جتک اوریونس ملازئی کے ہمراہ قلات سے کوئٹہ آرہے تھے تو راستے میں ایف سی والوں نے دو افراد اٹھائے اور اگلے دن انکی لاشیں مستونگ کے علاقے لکپاس سے ملی تھیں۔

آئی جی ایف سی نے کہا ہے کہ انہوں نے میر صادق عمرانی کے اس بیان کی اگلے دن تردید کی تھی تاہم عدالت نے کہا کہ صرف تردیدی بیان یا تحریری رپورٹ سے کام نہیں چلے گا۔ عدالت نے کہا کہ اب انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ ایف سی ان واقعات میں ملوث نہیں ہے ۔اس کے بعد عدالت نے آئی جی ایف سی کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔

عدالت نے بلوچستان کیس کی آئندہ سماعت بارہ اپریل کو اسلام آباد میں اور تیس اپریل کو دوبارہ کوئٹہ میں کرنے تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں