کوہ پیما، سابق فوجی اور صحافی نے کیا کیا بتایا؟

ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن گلیشئر میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے کئی افسر اور سو سے زیادہ فوجی منوں برف تلے دب گئے ہیں۔

قریب ترین مقام سکردو کے صحافی وزیر مظفر حسینکا کہنا ہے کہ تین افسروں اور ایک سو پچپن جوانوں کے دبنے کی اطلاعات ہیں اور اب تک صرف پانچ لاشین نکالی جا سکی ہیں۔

کوہ پیما اشرف امن کا کہنا ہے کہ تودے گرنے یا پھسلنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

سیاچن پر ملازمت کے دوران فرائض انجام دینے والے سابق فوجی محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ گلیشئر پر رہنے کی مدت کا تعین بلندی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے بلندی زیادہ ہو تو زیادہ دن نہیں رہا جا سکتا۔

ان سب لوگوں نے بی بی سی اردو کے شفیع نقی سے بات کرتے ہوئے اور کیا کیا کہا خود ان کی زبانی سنیں:

تودے کیا ہوتے ہیں اور کیسے پیدا ہوتے ہیں؟

خبر کیسے ملی اور کیا ملی؟

گلیشئر پر رہنے کی مدت کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟