بشیر قریشی: سندھ کا اڑیل بیٹا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمسن سندھی نوجوان والہانہ انداز میں ان کی طرف کھنچے چلے آئے تھے

میں نے پہلی بار اسے انیس سو اسی کی دہائي میں ٹنڈو جام زرعی یونیورسٹی میں اپنے دوست صریر پنوہر کے کمرے پر دیکھا تھا۔ دبلا پتلا، لمبا تڑنگا لیکن خوبصورت آنکھوں اور لمبے قد والا شرمیلا اور کم گو یار باش بشیر قریشی۔

اس کی بہادری کے قصے تب فقط کیمپس کی چاردیواری اور اس سے قریبی میرپور خاص، حیدرآباد روڈ اور ٹنڈو جام تک محدود تھے۔ ہر کسی سے روایتی سندھی اور صوفیانہ طریقے سے ہاتھ باندہ کر گلے ملنے والا بشیر قریشی تب جی ایم سید کے نظریے سے وابستہ سندھی قومپرست طلبہ کی تنظیم جیے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن ٹنڈو جام یونیورسٹی کے یونٹ کا صدر تھا۔

یہ فوجی آمر ضیاءالحق کا زمانہ تھا لیکن سندھ کے کیمپس کے ہاسٹلوں کے نام ہوشو ہاسٹل، ذوالفقار علی بھٹو ہاسٹل اور جی ایم سید ہاسٹل رکھے جاتے تھے جس کے چوتھے نمبر کمرے میں بشیر قریشی رہتا تھا۔ الطاف تنیو، بشیر قریشی اور غریب جیے سندھ کا فنکار اور چائے فروش ہوش محمد عرف ڈاڈو ہوشو ایک ساتھ رہتے تھے۔

ڈاڈو ہوشو کے گیت اور چرس کی خوشبو ٹنڈو جام کی شاموں اور ہواؤں میں ایک ساتھ اڑا کرتی۔ کیمپس کے دیواروں پر نعرے اور دلوں میں ‏ضیاء الحق اور اس کی فوجی آمریت کے خلاف ختم نہ ہونے والے ‏غصے میں سندھ کی ایک نئی نسل پروان چڑھ رہی تھی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی سندھ کے تعلیمی اداروں کے گرد خاردار باڑھیں نہیں بچھی تھیں اور سندھ کے انقلابیوں نے ڈاکوؤں کو انقلابی اور ڈاکوؤں نے انقلابیوں کو ڈاکو بنانے کا نہں سوچا تھا اور پھر ان دونوں پر مکمل طرح ایجنسیوں نے اپنا دستِ شفققت بھی نہیں رکھا تھا۔

سرمد سندھی کے گیتوں، شیخ ایاز کی شاعری ، جی ایم سید کے عشق اور کوڑوں ، پھانسیوں اور مارشل لاء کے ایک عہد نے بشیر قریشی کی پرورش کی۔ اگرچہ ان کے مخالف کہتے تھے کہ اس نوجوان کی پرورش میں ان دیکھی قوتوں یعنی پاکستانی خفیہ ایجنسیوں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا۔

سندھ میں دادو میں ٹھوری ریلوے کراسنگ پر سندھ یونیورسٹی کے جیے سندھ کے طلبہ بھری بس پر فائرنگ کے بعد بشیر قریشی جیے سندھ سٹوڈنٹس قیڈریشن یا جساف کا صدر منتخب ہوا-

اب سندھ کا ایک نیا ہیرو بشیر خان قریشی تھا۔رتودیرو کے نچلے متوسط طبقے کے غلام مرتضی قریشی کا بیٹا۔ بشیر خان قریشی ایک نئے ڈکشن اور انداز خطابت کے ساتھ۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ سندھی قوم پرستی کی ایک عجب دنیا اور ایک اپنی لغت لیے ہوتی ہے، شاعرانہ اور کٹر قوم پرستانہ۔

بشیر قریشی جیے سندھ اور سندھی قوم پرستوں یا عام سیاسی اجتماعات، جلسوں ، جلوسوں میں خاص طور نوجوانوں میں سندھ ماتا، دھرتی ماں، غلام سندھی قوم، پنجاب سامراج، آزاد سندھو دیش، رہبر اعظم، فکر جی ایم سید، قومی کارکن، قومی تحریک، قومی کاز جیسے ڈکشن یا ذخیرہ الفا‎‎ظ سے مزین انداز خطابت کے بہتے دریا بن کر نکلے تھے۔ وہ اسٹیج اور بندوق کی زبان بخوبی جانتے تھے اور اسی لیے کمسن سندھی نوجوان والہانہ انداز میں ان کی طرف کھنچے چلے آئے تھے۔

پھر ایک ایسا دور آیا جب سندھ کے شہروں کی دیوراوں پر ’ہم سے جو ٹکرائے گا وہ لال بتی جائے گا‘ جیسے نعرے دکھائی دیے اور دوسری جانب بشیر قریشی کے میورلز پینٹ کیے گئے جس میں انہیں ریمبو کے انداز میں سب مشین گن ہاتھ میں لیے سندھی اجرک سر پر پہنے ’ابو جہاد‘ قرار دیا گیا۔

اپنے چاہنے والوں کی طرف سے ’سندھ کا ابوجہاد‘ کہلانے والے بشیر قریشی کے سیاسی سفر نے ان کی جماعت جسقم یا جیے سندھ قومی محاذ کو سندھ کی تیسری بڑی سیاسی پارٹی بنا دیا تھا۔ یہ بشیر قریشی سندھ کے ان چند لیڈروں میں سے تھے جو سندھ میں گاؤں گاؤں، شہر، شہر چوک، چوک جاکر دھرنے ، اجتماع اور لانگ مارچ منعقد کرتے اور سال کے بارہ ماہ سفر میں رہتے تھے۔

انہوں نے جیے سندھ قومی محاذ کو سندھ میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے بعد تیسری مقبول لیکن سندھ کی آزادی پر یقین رکھنے والی جماعت بنا دیا تھا۔ان کی جوان موت سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے سانحوں کے بعد بڑے سانحے کے طور پر محسوس کی جائے گي۔ وہ اب سندھیوں کی اکثریت میں ایک غیر متنازع اور متفقہ لیڈر فقط ایک حوالے سے بنتے جا رہے تھے کہ وہ سندھیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل لاکھوں کے اجتماع میں کراچي ميں سندھ کی پاکستان سے علیحدگي کی بات کرنے والے بشیر قریشی کی اچانک موت کو سندھیوں کی اکثریت ’غیر طبعی‘ سجھ رہی ہے۔ سندھی میڈیا انہیں ’سندھ جو ارڈو پٹ‘ یا سندھ کا اڑیل بیٹا قرار دے رہا ہے لیکن عام سندھی اس پر سخت نالاں ہے کہ نام نہاد قومی پریس نے ان کی موت کی خبر کو اہمیت نہیں دی۔

اسی بارے میں