ایک دیوانہ عاشق

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لمبا تڑنگا۔ بھاری بھرکم۔ سانولا سا، سادہ سا، کم گو بشیر خان۔

سات اپریل کو سانگھڑ میں صبح صبح ایس ایم ایس آیا کہ بشیر خان قریشی وفات پا گئے۔

وسعت اللہ خان نے میرے چہرے کو غور سے دیکھا اور سوالیہ انداز میں سر اٹھایا۔

’بشیر خان پاسڈ اوّوے‘۔ میں نے ایس ایم ایس پڑھا

پاسڈ اوے یا شوٹ ڈیڈ؟ وسعت نے بے ساختہ پوچھا

ہارٹ اٹیک شاید۔

اوہ۔۔۔۔ شکر ہے گولی نہیں چلی ورنہ بہت خون خرابہ ہوتا۔

اس کے بعد ہمارے بیچ ایک سوگوار خاموشی چھا گئی۔

سانگھڑ سے اگلی منزل تک سفر کے دوران ذہن کے پردے پر بشیر خان کے مناظر چلنے لگے۔

صحافیوں سے بھری وین تیزی سے سن کی جانب بھاگ رہی ہے۔وہ دیکھو وہ دیکھو بشیر خان کی گاڑی آ رہی ہے۔ صحافی اونچی آواز میں ایک دوسرے کو بتا رہے ہیں۔ ایک زناٹے سے بشیر خان کی جیپ نے ہماری وین کو اوور ٹیک کیا تو مقامی صحافیوں کے کیمرے ہر ممکن طریقے سے اس کی ایک جھلک محفوظ کرنے کو بیتاب ہو رہے تھے۔

بشیر خان نے جی ایم سید کی برسی پر اپنا جلسہ الگ سے کیا۔ جب کہ جی ایم سید کے صاحبزادے اور دوسرے سیاسی رہنما جن میں خاص طور پر بلوچستان سے اختر مینگل بھی مدعو تھے دوسری جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ بشییر خان کے جلسے کی شروعات آزاد سندھو دیش کے ترانے سے ہوئی تھی۔

اگلی ملاقات: جب اپنی پارٹی کے ایک ورکر اخلاق حسین کی شادی میں بشیر خان خود گاڑی چلا کر آئے اور بارات لے کر دوسرے گاؤں پہنچے۔

لمبا تڑنگا۔ بھاری بھرکم۔ سانولا سا، سادہ سا، کم گو بشیر خان، ہر آنے والے سےاٹھ کر گلے ملتا اور ہاتھ جوڑ کر کھڑا رہتا۔

شادی میں شفیع فقیر ساری رات سندھ کے نغمے سناتا رہا۔

میں سندھی انقلابی نوجوانوں کے گروپ میں بیٹھا تھا۔ ان میں ایاز جوکھیو بھی شامل تھا ایک تو کم عمر بین الاقوامی آرٹسٹ اور پھر صرف حق بات پر تعریف کرنے کی عادت نے اسے دوسروں سے ممتاز کر رکھا تھا۔

بشیر خان سے الوداع کرتے ہوئے میں نے غور سے ایاز کو دیکھا، ایاز کی آنکھوں میں عقیدت کی نمی تھی اور پھر ایاز نے بے ساختہ بشیر خان کے ہاتھ چوم لیے اور اتنے ہی پیار سے بشیر خان نے بھی ایاز کے ہاتھوں کو چوما۔ رات بھیگتی رہی شفیع فقیر گاتا رہا مگر اس منظر نے بشیر خان کے کردار کی وضاحت ضرور کر دی تھی۔

پھر ایک بار بشیر خان کو میں نے اس وقت، جب کراچی پریس کلب کے باہر وہ بھوک ہڑتالیوں کے ساتھ بیٹھا تھا اور اکا دکا فوٹوگرافر فارمیلیٹی پوری کر رہے تھے۔

اور پھر جب ڈاکٹر صفدر سرکی کی بازیابی کے لیے وہ اپنا کارواں لیے بلوچستان اسمبلی کے باہردھرنا دیے ہوئے تھا تو وزیراعلی بلوچستان اسلم رئیسانی سے بات چیت کرتے ہوئے اس کے جوش پر سادگی اور متانت غالب تھی۔ وہ مناظر بھی ویڈیو فوٹیج کے ذریعے مجھ تک پہنچے۔

اور پھر جب اس کے قافلے پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ بچ گیا۔ میں نے سٹوڈیو سےفون پر اس کا بیان ریکارڈ کروایا۔ بہت سیدھے سادے بے باک انداز میں اس نے حملہ آوروں کی نشاندہی کی۔

مگر آخری ملاقات یادگار تھی جب اخلاق جوکھیو کا فون آیا کہ میں اور بشیر خان رات کا کھانا تمہارے گھر پہ کھائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بشیر خان، ہر آنے والے سےاٹھ کر گلے ملتا اور ہاتھ جوڑ کر کھڑا رہتا۔

بشیر خان جتنی دیرگھر پہ رہا اس کی نظریں یوں جُھکی رہیں جیسے کسی بھی مہذب۔ اقدار پسند۔ قبائلی آدمی کی نظریں گھر کے احترام میں جھکی رہتی ہیں۔

یہ سانول ہے۔ ہے تو بلوچ پراپنے آپ کو سندھی کہتا ہے۔ میں نے تین سالہ بیٹے کا تعارف کرایا۔

بشیر خان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری جوخوشی کی ہنسی میں بدلتی گئی۔ بہت پیار سے اس نے سانول کو اپنی گود میں بٹھایا:

بابو۔۔ خوش آں؟

سانول نے ہاں میں سر ہلایا

سندھی آھیں؟ (سندھی ہو) سانول نے پھر ہاں میں سر ہلایا۔

بشیر خان اخلاق کو دیکھ کرخوشی سے پھر ہنسا۔ جیب سے سو روپے نکال کر سانول کو خرچی دی، جیسا کہ رواج ہے۔

سائیں، ہی شرجیل آ۔۔۔ ہن بی وڈڈو کم کیوآ (سائیں یہ شرجیل ہے، اس نے بھی بڑا کام کیا ہے) اخلاق نے میری جانب اشارہ کیا۔

بشیر خان نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔ وہ بات بہت کم اور ضرورت کی کرتا تھا۔

اس نے سندھ پر ڈاکومنٹری بنائی ہے۔ صوفیوں پر۔ ڈاکومنٹری نے پہلا انعام جیتا ہے باہر ملک میں۔

بشیر خان حیرت اور غور سے چند لمحے دیکھتا رہا اور پھر اپنے بھاری ہاتھوں میں میرا ہاتھ پکڑ کر بولا:

’سائیں تھواں جا تھورا‘ ( سائیں آپ کا احسان ہے)

بولتے ہوئے اس کی آنکھوں میں اچانک کہیں سے آنسو آ گئے تھے، یہ بات اور کوئی نہیں کر سکتا ماسوائے اس دیوانے عاشق کے جو اپنی محبوبہ کی تعریف کرنے والے کو بھی اپنا محسن سمجھتا ہو۔

اسی بارے میں