’خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج کے شعبہء تعلقاتِ عامہ نے ریسکیو آپریشن کی تصاویر جاری کی ہیں۔

ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد کی تلاش کا کام خراب موسم کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں اب دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق امدادی آپریشن میں مدد کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ سے تین ماہرین پر مشتمل ٹیم جبکہ جرمنی سے آفات سے نمٹنے کے ماہرین پر مشتمل چھ رکنی ٹیم ضروری سازوسامان سمیت پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستان پہنچ رہی ہے۔

مقامی صحافی وزیر مظفر حسین شاہ کے مطابق جائے حادثہ کے قریب موسم شدید خراب ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں پر برف باری بھی شروع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے کوئی بھی پرواز سکردو میں نہیں اُتر رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ذرائع کے مطابق امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے امریکہ کی آٹھ رکنی ٹیم جو اتوار کو پاکستان پہنچی تھی، خراب موسم کی وجہ سے جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی ہے۔

پیر کو پاکستانی فوج نے متاثرہ علاقے کی سیٹلائٹ سے لی گئی کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خراب موسم اور مسلسل برفباری کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

جائے حادثہ پر جاری امدادی آپریشن کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے فوج کے شعبۂ تعلقات ِعامہ کا کہنا ہے کہ دو سو چھیاسی فوجی اور ساٹھ شہری بلڈوزروں اور کھدائی کرنے والی مشینری کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ فوج کے مطابق اب تک ان افراد نے چالیس فٹ طویل، تیس فٹ چوڑا اور دس فٹ گہرے حصے کی تلاشی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو سو چھیاسی فوجی اور ساٹھ شہری بلڈوزروں اور کھدائی کرنے والی مشینری کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں

آئی ایس پی آر کے مطابق امدادی آپریشن میں پانچ ہیلی کاپٹرز بھی شریک ہیں جبکہ اسلام آباد سے ایک سی ون تھرٹی طیارے کی مدد سے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے اور سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ماہرین کو بھی متاثرہ علاقے میں پہنچا دیا گیا ہے۔

سّتر سے اسّی فٹ اونچا اور ایک مربع کلومیٹر طویل برفانی تودے نے سنیچر کی صبح ناردرن لائٹ انفنٹری کے صدر دفتر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس کی زد میں آ کر ایک سو اٹھائیس فوجیوں سمیت ایک سو انتالیس افراد برف تلے دب گئے تھے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے سنیچر کو ایک فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق اس برفانی تودے کے نیچے دبے ہوئے افراد کی تعداد ایک سو پینتس تھی جن میں ایک سو چوبیس فوجی اور گیارہ سویلین شامل تھے۔ تاہم اب عسکری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دبے ہوئے افراد میں 128 فوجی شامل ہیں۔

مقامی صحافی مظفر شاہ کے مطابق گیاری سیکٹر میں ناردن لائٹ انفنٹری کے صدر دفتر میں عمومی طور پر ایک سو پچاس یا اُس سے زائد افراد تعینات ہوتے ہیں اس لیے برف کے تودے کے نیچے دب جانے والے افراد کی تعداد میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

اس حادثے کی اطلاعات ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی امدادی آپریشن شروع کر دیا گیا تھا تاہم ابھی تک ایک بھی فرد کو زندہ یا مردہ حالت میں نہیں نکالا جا سکا ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ امدادی آپریشن کے مکمل ہونےمیں کئی دن لگ سکتے ہیں کیونکہ جس علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا ہے وہاں درجہ حرارت منفی ستر ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے گیاری سیکٹر کے قریبی علاقوں گُوما اور سلترو کے مکینوں کو بھی امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے کہا ہے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی علاقے میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج کے شعبہء تعلقاتِ عامہ نے ریسکیو آپریشن کی تصاویر جاری کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برف کے نیچے دب جانے والے فوجیوں میں سے اکثریت کا تعلق سکردو کی سب ڈویژن شگر سے ہے اور ان سب کا تعلق ناردرن لائٹ انفنٹری چھ سے ہے۔ اس علاقے میں دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو بھی واقع ہے۔

واضح رہے کہ سیاچن گلیشئر متنازع کشمیر کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ہے اور اسے دنیا کے اونچے ترین جنگ کے میدان کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

دو ہزار تین میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی سیاچن میں تعینات ہیں۔

سیاچن میں شدید موسمی حالات کی وجہ سے پہلے بھی فوجی جوانوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سیاچن کے تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ان میں ابھی تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں