’بغیر اندراج کے کرائے پر مکان لینا جرم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرائے پر مکان لینے سے قبل پولیس کے پاس اپنا اندراج نہ کرانے پرمتاثرین کے خلاف دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت قانونی کارروائی کی جائی گی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے قبائلی علاقوں سے بےگھر ہونے والے متاثرین یا غیر مقامی افراد کی طرف سے بغیر اندراج کیے کرائے پر مکان لینے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان پیر کو پشاور کے ضلعی رابط افسر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔

ضلعی رابط افسر کے ترجمان فیروز شاہ مہمند نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے فاٹا یا دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین یا غیر مقامی افراد کےلیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ پشاور میں کرائے پر مکان لینے سے پہلے پولیس کے پاس اپنا اندراج کرائیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت قانونی کارروائی کی جائی گی۔

انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ڈیلرز کو بھی سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرین کو کرائے پر مکان نہ دیں جنہوں نے قریبی تھانے سے اندارج نہ کرایا ہو۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک اندازے کے مطابق پشاور شہر میں تین لاکھ کے قریب متاثرین یا غیر مقامی افراد رہائش پزیر ہیں جن میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے یہ فیصلہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کےلیے کیا ہے۔ ان کے مطابق متاثرین کی آڑ میں کئی جرائم پیشہ افراد نے بھی پشاور میں پناہ لے رکھی ہے جس سے شہر میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرین کی بڑی تعداد میں منتقلی سے ہر سال پشاور میں پولیو کے نئے کیس سامنے آتے ہیں جس سے یہ وائرس شہر میں پھیلنے کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول متاثرین کی طرف سے پولیس کے ساتھ رجسٹریشن سے ان متاثرہ بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے جائیں گے جو محروم رہے ہیں اور اس طرح اس بیماری پر بھی قابو پالیا جائے گا۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں دو تین سالوں سے جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوکر شہروں میں پناہ لے رہے ہیں۔ تاہم ان متاثرین کی ایک بڑی تعداد پشاور میں بھی مقیم ہے۔ ان متاثرین کی آمد سے پشاور کے زیادہ تر علاقوں میں کرائے پر مکان دستیاب نہیں۔

اسی بارے میں