سفارت کاری بذریعہ تجارت زیادہ موثر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان اور انڈیا میں اس وقت تجارتی حجم دو بلین ڈالر ہے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے انڈیا کو چین کی طرز پر تجارت کی پیشکش کو پاکستان اور بھارت کے تاجروں نے خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سفارت کاری بذریعہ تجارت زیادہ موثر ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ دورہ بھارت کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ کو پیشکش کی تھی کہ جس طرح انڈیا اور چین میں تنازعات کے باوجود تجارت کا ماڈل موجود ہے اسی طرح کا ماڈل پاکستان اور انڈیا کے مابین بھی ہونا چاہیے۔

پاکستان انڈیا بزنس فورم کے چیئرمین امین ہاشوانی نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ماحول تبدیل ہو رہا ہے، تجارت اب سفارت کاری کی سطح پر آرہی ہے جس طرح چین اور تائیوان کے مابین انڈیا اور چین کے درمیان جو مسائل تھے وہ تجارت کے باعث کم ہو رہے ہیں۔

ہاشوانی کے خیال میں ’بھارت اور پاکستان واحد خطہ ہے جہاں آپس میں تجارت نہیں رہی ، اگر پاکستان علاقائی سوچ نہیں اپنائے گا تو اکیلا رہے جائے گا‘۔

انڈیا اور چین کے درمیان دو ہزار آٹھ تک ستر ارب ڈالر کی تجارت ہوتی تھی جو دو ہزار پندرہ تک اس کے سو ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بھارتی ایوان صنعت و تجارت کے رہنما ڈاکٹر راجیو کمار کا کہنا ہے کہ ’جو سیاسی مسئلے ہیں ان کو الگ کرکے جو خرید فروخت ہے جو تجارت ہے اسے آگے بڑھانا چاہیے، باقی چیزیں بھی ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجائیں گی‘۔

بقول ان کے بھارت کا چین کے ساتھ تجارت میں تھوڑ عدم توازن ہے مگر پاکستان کے ساتھ ایسا امکان نظر نہیں آتا، پاکستان سے کافی چیزیں برآمد ہوسکتی ہیں جیسے سیمنٹ، آٹو پارٹس،اسپورٹس گڈز اور ٹیکسٹائل مصنوعات، اس لیے انہیں نہیں لگتا کہ عدم توازن رہے گا۔

پاکستان انڈیا بزنس فورم کے چیئرمین امین ہاشوانی تجارت کی سالوں سے بند راہیں کھلنے پر احتیاط برتنے کی بھی تجویز دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت جو بھی اقدامات کرے وہ ترتیب وار ہوں کیونکہ ساٹھ سال سے دونوں ممالک میں تجارت نہیں ہوئی ہے اس کا آغاز آرام اور احتیاط سے کیا جائے کہیں جلدبازی میں منفی نتائج سامنے نہ آئیں اس کے علاوہ اگر پاکستان ایک قدم اٹھا رہا تو انڈیا کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی منڈیاں کھولے، حالانکہ انڈیا کے لیے یہ بہت مشکل ہے کیونکہ وہ ایک کلوز مارکیٹ ہے۔

پاکستان اور بھارت میں ایک عرصے سے کشمیر، سیاچین، سر کریک اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات وجہ تنازعہ رہے ہیں اور دونوں ممالک میں مذاکرات کے وقت یہ مسائل حاوی رہتے ہیں۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر مجید عزیز کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتیں مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھیں مگر تجارت اور سرمایہ کاروں کو نہ روکیں کیونکہ اس کا تعلق دونوں ملکوں کی ترقی سے ہے۔’ آپ چاہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تو یہ مسئلہ انیس سو سینتالیس سے حل نہیں ہوا اب کیسے ہوجائے گا۔ جامع مذاکرات کی بنیاد پر جو مذاکرات کیے جاتے ہیں اس کا نقصان تجارت کو ہوتا ہے‘۔

پاکستان اور انڈیا میں اس وقت تجارتی حجم دو بلین ڈالر ہے۔ تجزیہ نگار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ علاقائی تجارت چاہے وہ یورپی یونین کی ہو یا ایشیائی سطح پر فائدہ مند ہے مگر بدقسمتی سے برصغیر میں اس طرح کی کوئی شراکت نہیں ہے، اس کے برعکس جو سیاسی اور دیگر مسئلے ہیں ان کی وجہ سے تجارت بہت کم ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان اور انڈیا میں کوئی تجارتی تعاون ہوتا ہے تو اس کا فائدہ عوام کو ہی ہوگا۔

’ کچھ ایسی صنعتیں ضرور ہوں گی جن میں بھارت پاکستان سے اور پاکستان بھارت سے بازی لے جائے مگر مجموعی طور پر اس سے عوام کا فائدہ ہوگا چیزیں سستی ملیں گی اور جو اقتصادی سرگرمیاں ہوں گی اس سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان نے چندہ ماہ قبل انڈیا کو پسندیدہ ملک قرار دیا تھا، جس کے بعد مذہبی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آیا اور خاص طور پر جماعۃ الدعوۃ کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ملک بھر میں دیواریں بھارت مخالف نعروں سے رنگ دی گئی تھیں۔ میڈیا کے کچھ حلقوں کی جانب سے بھی مخالفت دیکھی گئی مگر حکومت ثابت قدم رہی ہے۔

اسی بارے میں