’ایک کال کا انتظار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فوج میں سپاہی آفتاب سموں کے خاندان کو ایک ٹیلیفون کال کا انتظار ہے، جس کی بنیاد پر ان کی امیدیں بندھیں گی یا ٹوٹیں گی۔

ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد میں پاکستان فوج کے سپاہی آفتاب سموں بھی شامل ہیں، جن کا تعلق سندھ کے شہر لاڑکانہ سے ہے۔

آفتاب سموں کے بھائی طفیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں واقعے کے بارے میں کسی نے آگاہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے خود نیوز چینلز پر دیکھا تھا کہ وہاں برفانی تودہ گرا ہے۔

’انٹرنیٹ پر آفتاب کا نام تلاش کیا تو وہاں صرف نام موجود تھا ولدیت سمیت کوئی تفصیل دستیاب نہیں تھیں، جس کے بعد ہیلپ لائن پر پیغام بھیجا اور پیر کی دوپہر کو رابطے کر کے تصدیق کی گئی کہ آفتاب بھی برفانی تودے کی لپیٹ میں آگیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ لاش ملی ہے یا نہیں۔‘

آفتاب احمد کے اہل خانہ کی امیدیں اس وقت ٹوٹ گئی تھیں جب گزشتہ شب مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے انہیں ٹیلیفون پر رابطہ کر کے بتایا صبح کو وہ آفتاب کی لاش لیکر آئیں گے۔

طفیل احمد کے مطابق انہوں نے ایس ایچ او سے دریافت کیا کہ انہیں کس نے اطلاع دی ہے تو اس کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی ہے۔

’صبح کو پنو عاقل چھاؤنی سے ایک شخص شخص آیا تھا انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ، انہوں نے یہ ہدایت کی تھی کہ پتے کی تصدیق کر کے آئیں۔

سپاہی آفتاب احمد کے والدین گاوں اور بھائی بہن شہر میں رہتے ہیں، آفتاب کے بھائی طفیل نے بتایا کہ’ پنوعاقل سے آنے والا شخص آدھے گھنٹے تک بیٹھا اور پھر کہا کہ وہ قبرستان دکھائیں، جہاں آفتاب کی تدفین کریں گے جو اسے دکھایا گیا اس کے بعد اس کے بعد وہ چلا گیا۔ اب اس کے موبائل فون پر بھی رابطہ نہیں ہو رہا۔‘

بارہ جماعتیں پاس آفتاب احمد دو ہزار پانچ میں پاکستان فوج کے شعبے میکنیکل میں بھرتی ہوئے تھے، ان کے بھائی طفیل احمد کا کہنا ہے کہ ہیلپ سینٹر سے کوئی پتہ نہیں چل رہا جب ان سے رابطہ کر کے پوچھتے ہیں کہ کیا ماجرہ ہے، آپ لوگوں نے کتنے لوگ نکالے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ایک شخص بھی نہیں نکالا ہم کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان فوج کا امدادی کارروائیوں میں ساتھ دینے کے لیے امریکی، جرمن اور سوئٹرزلینڈ سے ٹیمیں پاکستان پہنچ چکی ہیں۔

طفیل احمد پر امید ہیں ان کا کہنا ہے کہ زندگی اور موت خدا کی ہاتھ میں ہے مگر انہیں بتانا تو چاہیے۔

’ آفتاب کے علاوہ جو دوسرے لوگ دبے ہوئے ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں، جگر کے ٹکڑے ہیں۔ خدا ان کو سلامت رکھیں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، آفتاب کا بھی ایک چھوٹا بیٹا اور بیٹی ہے۔

آفتاب کی جمعہ کو اہل خانہ سے بات ہوئی تھی، دوسرے روز یہ واقعہ پیش آیا، طفیل احمد کے مطابق آفتاب عید پر گھر آئے تھے اور اب اگلے ماہ مئی میں آنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پاکستان میں فوجی محاذ پر پیش آنے والا یہ دوسرا بڑا واقعہ سمجھا جاتا ہے، اس سے پہلے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں چھبیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جس میں لاڑکانہ کے میجر مجاہد میرانی بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں