صدر زرداری کا دورہ بھارت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے بھارت کے ’نیم سرکاری‘ اور زیارتی دورے کے دوران ہونے والی بات چیت کو فریقین مثبت قرار دے رہے ہیں۔

صدر کے اس نجی دورے کا مقصد تو خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری دینا تھا لیکن جب وزیراعظم من موہن سنگھ نے انہیں ظہرانے کی دعوت دی تو یہ نجی دورہ نیم سرکاری بن گیا۔

دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ساتھ ساتھ بلاول اور راہول گاندھی میں ملاقات سے، بھٹو اور گاندھی خاندانوں کا تعلق تیسری نسل میں منتقل بھی ہوا۔

وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیل تو تاحال سامنے نہیں آئی لیکن اس بارے میں فریقین کے ساتھ دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ میں بھی قدرے اطمینان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں اکثر اوقات پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ سیاسی قیادتوں کی ملاقاتوں کے مواقع پر جہاں سیاسی رہنماؤں کی’باڈی لینگویج‘ کچھ جارحانہ نظر آتی رہی ہے وہاں میڈیا میں بھی اپنے نکتہ نظر سے ایک بھونچال دکھائی دیا ہے۔

لیکن اس بار سیاسی قیادت اور ذرائع ابلاغ میں سب اچھا دکھائی دے دیا اور ایک لحاظ سے صدر آصف علی زرداری کی ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کی یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کے حکومتی ذرائع کافی پرامید ہیں کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہی بھارت کے ساتھ سیاچن اور سرکریک کے معاملات طے پا جائیں گے اور اس کا اعلان من موہن سنگھ کے دورہ پاکستان کے وقت ہوگا۔ لیکن حکومت کو اب بھی ممبئی حملے جیسے واقعات کا خدشہ ضرور ہے۔

ویسے تو ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے زمانے سے پیپلز پارٹی اور کانگریس میں ایک تعلق رہا ہے اور دونوں جماعتوں سے امیدیں بھی وابسطہ رہی ہیں لیکن دونوں چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کر پائے جس کی ان سے توقع کی جاتی رہی ہے۔

بینظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں جب راجیو گاندھی پاکستان کے دورے پر آئے تو سندھ ہاؤس کے قریب کشمیر ہاؤس کا بورڈ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اتار لیا اور وہ تصویر نوائے وقت اخبار سمیت مختلف اخبارات میں نمایاں طور پر شائع کروائی گئی اور بعض کالم نگاروں نے کہا کہ ایسا کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ راجیو گاندھی خوش ہوں۔

راجیو گاندھی کے دورہ پاکستان میں جب بات چیت آگے بڑھی تو افغان جہاد سے فارغ ہونے والی فورس کی ہماری اسٹیبلشمنٹ نے کشمیر جہاد کا ٹاسک دیا اور دونوں ممالک میں ایک بار پھر خلیج وسیع ہوگئی۔

لیکن انیس سو ستانوے میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو میاں نواز شریف نے بھارت سے بات چیت آگے بڑھائی اور آخر کار بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی فروری انیس سو نناوے کو لاہور آئے اور جامع مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔ تاہم یہ بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ناگوار گزرا اور پھر کارگل ہوا اور میاں صاحب کا تختہ الٹا گیا۔

بعد میں پرویز مشرف نے بھی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن بداعتمادی کے گھنے بادل نہیں چھٹے۔ کئی معاملات پر مذاکرات کی میز پر پیش رفت تو ہوئی لیکن منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔

اگست سنہ دو ہزار آٹھ میں جب پرویز مشرف مستعفی ہوئے اور ستمبر میں آصف علی زرداری صدرِ پاکستان منتخب ہوئے تو انہوں نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی باتیں شروع کیں۔

بائیس نومبر کو صدرِ پاکستان نے جب بھارت کو جوہری اسلحہ کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے معاہدے کی پیشکش کی تو بھارتی قیادت حیران اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پریشان ہوگئی۔ کیونکہ بھارت کو یہ توقع ہی نہیں تھی کہ پاکستان ایسی پیشکش کر سکتا ہے جبکہ پاکستانی اسٹیبشلمنٹ کو جان کے لالے پڑ گئے کہ اگر یہ معاہدہ ہوا تو پھر جوہری اسلحہ حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی قیادت شش و پنج میں ہی تھی کہ صدر کے اس بیان کے چار روز بعد یعنی چھبیس نومبر کو ممبئی حملہ ہوگیا اور دونوں ممالک میں حالات جنگ کی نہج تک پہنچ گئے۔ ظاہر ہے کہ ممبئی حملوں کی جو منصوبہ بندی تھی وہ صدر کے بیان سے کئی ہفتے پہلے ہوئی ہوگی لیکن ان کا مقصد یہی تھا کہ دونوں ممالک میں پھر سے نفرتیں بڑھیں۔

ممبئی حملوں کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے اہم ممالک سرگرم ہوئے اور جب حالات کچھ سنبھلے تو پاکستان نے ممبئی حملوں میں پاکستانی’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بھارت میں ہونے والے حملوں میں پاکستان نے سرکاری طور پر اپنے شہریوں کے ملوث ہونے کا برملا اقرار کیا۔

ایسے میں بھارتی میڈیا کے ایک غیر جانبدار طبقے نے بھارتی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ پاکستان کی منتخب حکومت، اسٹیبلشمنٹ کے الٹ سوچ رہی ہے اور کچھ بھارتی تجزیہ کاروں نے جوہری اسلحے کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی صدر آصف زرداری کی بات کا خیر مقدم نہ کرنے پر من موہن سنگھ کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

اب کی بار بھی بھارتی میڈیا کا رویہ کافی مثبت رہا ہے جس کی وجہ زرداری حکومت کی جانب سے رواں سال اکتیس دسمبر کو بھارت سے تجارت پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے اور ’اوپن ٹریڈ‘ شروع کرنے کا فیصلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جن کا روزگار بھارت اور پاکستان کی دشمنی پر چل رہا ہے وہ تو کبھی اس بات پر خوش نہیں ہوں گے اور ان کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ کچھ ایسا ہو کہ پھر سے ان کے ’گلشن کا کاروبار چلے۔‘

اسی بارے میں