’روزگار کی تلاش میں ایران جانے پر مجبور‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور بھی ایران اور ترکی جانے کی کوشش کرتے ہیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال اور بےروزگاری کے باعث نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے ہمسایہ ملک ایران کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق ایران جانے کے خواہشمند ان نوجوانوں کو ویزے کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ایرانی قونصلیٹ کے سامنے ہر رات نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ویزہ کے حصول کے لیے جمع ہوجاتی ہے لیکن ان میں سے صرف چند ایک کو ہی اگلے دن صبح ویزہ ملتاہے۔

ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ رشوت دیے بغیر ویزے کا حصول مشکل ہوگیا ہے اور ایک ٹوکن کی قیمت چار سے آٹھ ہزار روپے وصول کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق حکومت انہیں روزگار دینے میں ناکام ہوچکی ہے جس کے باعث وہ روزگار کی تلاش میں ایران جانے پر مجبور ہیں۔

خاران سے تعلق رکھنے والے ایک اور نوجوان ضیاءالدین نے بتایا کہ وہ تعلیم یافتہ ہے لیکن صوبائی حکومت نے اسے نوکری نہیں دی جس کے باعث وہ ایران میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔

ضیاء الدین کے مطابق وہ ایرانی ویزے کے حصول کے لیے کئی بار کوئٹہ کا چکر لگا چکا ہے جس پر ہر بار تین سے چار ہزار روپے خرچہ آتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقابلے میں ایران میں امن کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہیں اور پاکستان میں محنت کش کو پانچ سوجبکہ ایران میں پندرہ سوروپے ملتے ہیں۔

اس حوالے سے سماجی کارکن قاضی عظمت عیسٰی کا کہنا ہے کہ جب تک عوام کو روزگار نہیں دیا جاتا اس وقت ملک اور صوبے میں صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی‘۔

خیال رہے کہ ہرسال پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور بھی ایران اور ترکی جانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں اکثرراستے میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک جبکہ باقی گرفتار ہونے کے بعد ملک بدر ہو کر واپس پاکستان آجاتے ہیں۔

اسی بارے میں