خراب موسم کے باوجود امدادی آپریشن جاری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں خراب موسم کے باوجود برفانی تودے تلے دبے ایک سو انتالیس افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق ماہرین نے کھدائی کے لیے جن پانچ مقامات کی نشاندہی کی تھی ان تک رسائی کے لیے ساڑھے چار سو میٹر طویل راستہ تیار کر لیا گیا ہے۔

گیاری میں ریسکیو آپریشن

آئی ایس پی آر کے مطابق تلاش کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے ایک اور راستے کی تیاری کا کام بھی جاری ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کھدائی کے لیے جو مقامات چنے گئے تھے ان میں دو جگہوں پر مشینری کی مدد سے تیزی سے کھدائی کی جا رہی ہے جبکہ بقیہ تین مقامات پر فوج کے جوان ہاتھوں سے کھدائی کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں مشینری فراہم کی جا رہی ہے۔

اس امدادی آپریشن میں ساڑھے چار سو فوجی اہلکار اور انسٹھ عام شہری حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ہیلی کاپٹرز بھی آپریشن میں شریک ہیں تاہم موسم کی خرابی کی وجہ سے علاقے میں فضائی سروس زیادہ کارگر نہیں ہے۔

سیاچن اور اس کے گردونواح میں موسم بدستور خراب ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ان ماہرین کو بھی زمینی راستے سے ہی روانہ کیا گیا ہے۔ سکرود میں بھی موسم خراب ہونے کی وجہ سے گزشتہ کئی دن سے کوئی پرواز علاقے میں نہیں اتر سکی ہے۔

خیال رہے کہ امدادی آپریشن میں پاکستان کی مدد کے لیے جرمن اور سوئس ٹیمیں منگل کو پاکستان پہنچی ہیں جبکہ امریکی ماہرین پہلے ہی پاکستان آ چکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے وہاں موجود چشمے کا بہاؤ بھی رک گیا تھا جسے بحال کرنے کے لیے دو راستے بنائے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سنیچر کو گیاری سیکٹر میں ایک اسّی فٹ اونچا اور ایک کلومیٹر طویل برفانی تودہ پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر آ گرا تھا اور وہاں موجود ایک سو اٹھائیس فوجی اور گیارہ شہری اس تودے تلے دب گئے تھے۔

اسی بارے میں