’دنیا بھی ہمارے تحفظات کا خیال رکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے تحفظات دور کرنا چاہتا ہے لیکن دنیا پاکستان کے تحفظات کا بھی خیال رکھے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر انور بیگ کی مسلم لیگ نون میں شمولیت کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سے معاملات طے کرنےکے لیے ان کا موقف واضح ہے اور انہوں نے حکومت کو بتا دیا ہے۔

’حکومت یقین دہانی کرائے کہ پرائیویٹ سیکورٹی آپریٹر نہیں آنے چاہیں، ڈرون حملے بند ہوں، کوئی اڈا استعمال نہیں ہونا چاہیے اور اس کے بنا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔‘

میاں نواز شریف نےکہا کہ قومی معاملات پر ایک ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے اور حکومت سے بات کرنی ہوتی ہے۔

ان کے بقول حکومت مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور انہیں خود ہی جلد انتخابات کرانے چاہیں۔

لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اچھے کام کرے گی تو وہ اس کی حمایت کریں گے۔ ان کے بقول نیٹو سپلائی کی بحالی کے بارے میں حکومتی مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے بدعنوانی کے نئے سکینڈل سامنے آنے پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ جمہوریت کو بدنام کرنے کے لیے ایک سوچی سمجھی سازش ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق میاں نواز شریف نے انور بیگ کی مسلم لیگ نون میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی مجلس عاملہ کا رکن بنانے کا اعلان بھی کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ بشیر خان قریشی کی زہر سے ہلاکت کے معاملے کی حکومت آزادانہ جانچ کرائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت کے جو حالات ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ’وزیراعظم کو وہاں ہونا چاہیے تھا۔‘

اسی بارے میں