امریکہ سے تعلقات، سفارشات اتفاقِ رائے سے منظور

پاکستان کی پارلیمینٹ کی عمارت تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعرات کو سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی کے تین سیشن ہوئے

پاکستان کی پارلیمان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق قومی سلامتی کی کمیٹی کی سفارشات کا ترمیمی مسودہ اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔

نیٹو سپلائی کی بحالی کے بارے میں کمیٹی کی سفارشات میں کوئی ذکر نہیں ہے تاہم اس معاملے کو انتظامی قرار دیتے ہوئے حکومتی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری کے بعد کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ پائیدار، اسٹریٹیجک اور زیادہ طور پر واضح کردہ تعلقات چاہتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی پارلیمان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق قومی سلامتی کی کمیٹی کی جو سفارشات منظور کی ہیں امریکہ اس کا احترام کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ ان سفارشات پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات پر اس کے ساتھ ملکر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان کی پارلیمان سے منظور کردہ سفارشات میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو اسلحے کی فراہمی کے لیے پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہوگی۔

کمیٹی نے اپنی ترمیمی سفارشات میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملے فوری طور پر بند کرانے اور پاکستانی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی جانب سے دہشت گردوں کے تعاقب سمیت کسی بھی صورت میں داخل ہونے پر پابندی لگائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کسی خفیہ ایجنٹ یا نجی سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کو پاکستان میں کام کرنے یا پاکستان میں خفیہ یا اعلانیہ کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور نہ ہی پاکستانی سرزمین کسی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کے لیے استعمال کی جانی چاہیے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ حکومت امریکہ سے کہے کہ وہ سلالہ چیک پوسٹ حملے پر غیر مشروط معافی مانگے اور حملے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے بارے میں حکومت، کوئی وزارت، خودمختار ادارہ یا تنظیم کسی بھی غیر ملکی حکام سے کوئی زبانی معاہدہ نہیں کرے گا نیز یہ کہ اگر کوئی زبانی معاہدہ ہے تو وہ فی الفور ختم تصور ہوگا۔

تمام معاہدوں اور یاداشت ناموں کا وزارت قانون جائزہ لے گی اور پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔ متعلقہ وزیر ہر معاہدے اور یاداشت نامے کے بارے میں پارلیمان میں پالیسی بیان دینے کے پابند ہوں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ترمیمی سفارشات میاں رضا ربانی نے پیش کیں جس کے بعد اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ انہوں نے جن نکات پر اختلاف کیا وہ نکالے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے ماضی میں جو قراردادیں منظور کیں ان پر کوئی عمل نہیں ہوا لیکن اب وزیراعظم بتائیں کہ اگر ڈرون حملے بند نہ ہوئے، سلالہ جیسے حملے دوبارہ ہوئے تو حکومت کیا کرے گی؟۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وزیراعظم کا جواب انہیں اطمینان بخش نہیں ملا تو وہ اس پر دستخط نہیں کریں گے۔

وزیراعظم نے اس بارے میں کوئی ٹھوس بات تو نہیں کی صرف اتنا کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمان کا احترام ہو اور وہ قرارداد پر مکمل عمل کروائیں گے۔ جب قرارداد اتفاق رائے سے منظور ہوئی تو چوہدری نثار علی خان ایوان سے خاموشی کے ساتھ نکل گئے۔

سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے شق چالیس اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق امریکہ پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ امریکہ کے بھارت سے سویلین جوہری تعاون سے خطے میں سٹریٹجک توازن بگڑا ہے اس لیے پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک سے اس طرح کی سہولت حاصل کرے۔

جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے مواد کی پیداوار کو روکنے کے بارے میں معاہدے ’ایف ایم سی ٹی‘ کے بارے میں بھارت کے حوالے سے جو پاکستانی مؤقف ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے اور امریکہ سے بات چیت میں اس اصول کو سامنے رکھا جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے انسانی اور اقتصادی نقصان کو تسلیم کرے، پاکستان کی برآمدات کو امریکہ اور نیٹو رکن ممالک کی منڈیوں تک رسائی دیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور خطے میں امن کا قیام، اقتصادی اور سماجی ترقی کے مقاصد کا حصول ہونا چاہیے۔ بھارت سے بات چیت کو معنی خیز بنایا جائے، ایران اور ترکمانستان سےگیس پائپ لائن منصوبے پر عمل کریں اور افغانستان میں افغانیوں کی سربراہی میں امن کے عمل کی حمایت کی جائے۔ چین اور روس سے تعلقات کو مزید گہرا اور مستحکم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

جمعرات کو سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی کے تین سیشن ہوئے۔ مرکز میں اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کئی بار اپنی قیادت سے مشاورت کے لیے اجلاس سے باہر جاتے رہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ تمام جماعتوں پر بظاہر کوئی دباؤ ہے کہ آج ہر حال میں پارلیمان سے منظوری لینی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نےگزشتہ برس چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں