پچیس بھارتی ماہی گیر پاکستانی جیلوں سے رہا

پاکستانی جیلوں میں مقید پچیس بھارتی ماہی گیر رہائی کے بعد جمعہ کو بھارت پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان نے ان قیدیوں کو خیر سگالی کے جذبے کے تحت رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان اور بھارت اکثر سمندری حدود کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ماہی گیروں کو گرفتار کرتے رہتے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے کراچی جیل کے سپرنٹنڈنٹ نذیر احمد شاہ کے حوالے سے کہا ہے کہ پچیس ماہی گیروں کی رہائی کے بعد بھی چار سو تیئس بھارتی ماہی گیر اب بھی پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔ اسی طرح ایک سو پچاس پاکستانی ماہی گیر بھارتی جیلوں میں پڑے ہیں۔

بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کا فیصلہ ایسے موقع پر کیاگیا ہے جب پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل سے پہلے اپنے تجارتی تعلقات کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت باقاعدہ طور پر واہگہ سرحد پر ایک تجارتی ٹرمینل کا افتتاح کرنے والے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس نئے ٹرمینل سے دونوں ملکوں کے مابین تجارت کا حجم بڑھانے میں مدد ملے گی۔

پاکستان نے حال ہی میں بھارت سے درآمدات کی فہرست میں توسیع کی ہے۔

رواں ہفتے میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک عمر رسیدہ پاکستانی شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کو جیل سے رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اسی طرح پاکستان نے کراچی جیل میں قید بھارتی سمانتھ لکشمن بھمبنیا کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں