’اسے بطور سزا اپاہج کردو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان بھر میں ہر سال عورتوں پر تیزاب پھینکنے کے تقریباً ڈیڑھ سو واقعات رونما ہوتے ہیں

فرش پر خون کے دھبے بے احتیاطی سے نکالی گئی ڈرپ کا پتہ دیتے ہیں، چاروں اطراف دیواروں کا رنگ سیم کی وجہ سے اکھڑا ہوا ہے، کمرے کا واحد روشندان آدھا بورڈ لگا کر بند کیا گیا ہے۔

ایک بستر کے اوپر چھت سے نکل کر ایک لیک پائپ دیوار سے باہر جار رہا ہے، پلاسٹک کا تھیلا ٹھونس کر لیک بند کیا گیا ہے۔ لیکن اس سارے ماحول کو اس کمرے میں پڑے سات بستروں میں سے کسی ایک پر لیٹی عورت کی چیخیں یا کسی کی آہیں و سسکیاں تکلیف دہ سے بڑھا کر انتہائی دردناک بلکہ اذیت ناک بنا دیتی ہیں۔

ملتان میں نشتر ہسپتال کے برن یونٹ میں عورتوں کے لیے مخصوص یہ وارڈ نمبر دس اے اذیت بھری کہانیوں کا ڈائجسٹ ہے جس میں مردوں کی ہٹ دھرمی اور ظلم اور بربریت کی ایک سے بڑھ کر ایک داستان ہے۔

اسی وارڈ کے آخری بستر پر موجود ملتان کی شمع نامی تئیس سالہ عورت کی کہانی سُننے پہنچے تو انہیں اکیلا پایا۔ نہ کوئی رشتہ دار نہ تیماردار۔ مارچ کی ایک رات اس کے شوہر نے اس پر سوتے میں تیزاب ڈالا اور فرار ہوگیا۔ جاتے جاتے بیوی کا موبائل فون بھی ساتھ لے گیا تاکہ وہ کسی سے مدد نہ مانگ سکے اور پولیس کو نہ اطلاع دے سکے۔

تیزاب سے شمع کے جسم کے پندرہ فیصد حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بظاہر اپنے اوپر جبر کرتے ہوئے اپنی کہانی سنانا شروع کی۔ ’سونے سے قبل میری میاں سے تکرار ہوئی تھی۔ گھر کے اخراجات پر اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ اسے احساس کمتری بھی تھا۔ وہ مجھ پر خوبصورت ہونے کی وجہ سے مغرور ہونے کا الزام بھی عائد کرتا رہتا تھا۔ اسے شک تھا کہ میں بھاگ جاؤں گی‘۔

شمع کی شادی تیرہ سال کی عمر میں ہوئی اور وہ گزشتہ دس برسوں سے نباہ کر رہی تھی۔ ان کے شوہر ملتان میں ایک وکیل کے پاس ملازم تھے۔ شمع کو اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ قبل ہی ایک بڑی موبائل کمپنی میں ملازمت ملی تھی۔ ’ وہ میری نوکری کے خلاف نہیں تھے۔ میں انہیں کہتی رہتی تھی کہ اگر وہ گھریلو اخراجات پورے کرسکتے ہیں، بچوں کو پڑھا سکتے ہیں تو میں باہر نہیں جاؤں گی۔ اس نے ملازمت کے لیے اپنی مرضی سے چھوڑا تھا‘۔

شمع کے چار بچے ہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ جب ہسپتال میں وہ ملنے آئے تو شمع کی آنسوؤں کی نئی جھڑی لگ گئی۔ سب سے چھوٹی بیٹی سینے پر لیٹ گئی۔ بڑے بیٹے نے بتایا کہ ماں انہیں سب سے زیادہ رات کو سونے سے قبل یاد آتی ہیں۔ وہ ماں سے واپسی کا پوچھتے رہے کہ کب گھر آئیں گی۔ شمع انہیں تسلی دیتی رہی لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کا مکمل علاج کافی وقت لے سکتا ہے۔

اسی وارڈ میں ایک مریض کے تیماردار اور ایک نوجوان ڈاکٹر کی بات پر حیرت سے زیادہ افسوس ہوا۔ دونوں کا مشورہ تھا کہ بی بی سی کو اس عورت کے ہمسایوں سے ملنا چاہیے اور ان کی رائے بھی لینی چاہیے۔

ہمارا جواب ایک ہی تھا کہ عورت کا کردار جیسا بھی ہو اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہماری غرض اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے ہے۔ کیا کوئی عورت جس کا کردار جیسا بھی ہو اس سے اس طرح نمٹنا کسی صورت درست کہا جا سکتا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں ہر سال عورتوں پر تیزاب پھینکنے کے تقریباً ڈیڑھ سو واقعات رونما ہوتے ہیں اور خدشہ ہے کہ کئی واقعات میں ایسی خواتین شاید ہسپتال یا پولیس تک پہنچ بھی نہیں پاتیں لیکن بیویوں پر مظالم کا یہ واحد طریقہ نہیں ہے۔

اسی وارڈ میں سامنے کے ایک بستر پر سترہ سالہ سلمٰی بی بی اپنے چہرے پر اپنے شوہر کا ظلم سجائے لیٹی تھی۔ اس بچی کی شادی ایک سال پہلے ہوئی اور وہ اپنے شوہر کی اس حرکت کی وجہ معلوم نہیں۔ اس کے شوہر نے چھری سے اس کی ناک کاٹ دی تھی۔ ڈاکٹروں نے ناک تو دوبارہ جوڑ دی لیکن ذہنی انتشار کا علاج کون کرے گا کسی کو معلوم نہیں۔

اسی وارڈ میں باروچی خانے میں کسی بچے کی غلطی ماں کو مہنگی پڑی اور وہ جھلس گئی۔ لیکن اس دردناک حادثے کا مثبت پہلو تھا۔ اس عورت کا میاں اسے بچانے کی کوشش میں اپنے دو ہاتھ بھی جلا بیٹھا۔ دل کو تسلی ہوئی کہ چلو تمام شوہر ظالم نہیں ہوتے۔

Image caption وہ مجھ پر خوبصورت ہونے کی وجہ سے مغرور ہونے کا الزام بھی عائد کرتا رہتا تھا: شمع

یہ سب سنتے اور دیکھتے جب برداشت سے باہر ہوگیا تو وارڈ سے نکل کر باہر لگی کرسیوں پر جا بیٹھا۔ وہاں ایک پولیس کے سپاہی کے ساتھ موجود ایک شخص نے پوچھا کہ کیا آپ کسی غیرسرکاری تنظیم سے ہیں جو تیزاب سے متاثرہ عورتوں کی مدد کرتے ہیں تو میں نے کہا نہیں میں بی بی سی سے ہوں۔

’صاحب ہماری بہن پر بھی یہی ظلم ہوا ہے۔ وہاڑی میں سسرالیوں نے مل کر فردوس بی بی پر ایک سازش کے تحت گزشتہ دنوں تیزاب پھینک دیا۔ اسے میں یہیں علاج کے لیے لایا تھا اب وہ واپس ہمارے گھر چلی گئی ہے۔ آج ہم پولیس کے ساتھ ڈاکٹر کی رپورٹ لینے آئے ہیں‘۔

اس شخص نے یہ کہتے ہوئے اپنی بہن کی رپورٹ میرے ہاتھ میں تھما دی۔ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق اس کی بہن کے جسم کا بیس فیصد تیزاب سے متاثر ہوا۔ اس شخص نے جواب میں بہن کے سسرال کے پانچ مردوں اور دو عورتوں پر اس جرم کا الزام عائد کیا ہے جو اب ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں۔

اس کی باتیں سن کر احساس ہوا کہ اس وارڈ کے ہر کونے میں مردوں کے مظالم کی کہانیاں بکھری پڑی ہے۔ ابھی اس شخص سے گفتگو مکمل ہی کی تھی کہ جتوئی کے علاقے سے ایک اور بدقسمت ساس مقصود بی بی داماد کے ہاتھوں جھلسی ہوئی ہسپتال آن پہنچی۔ داماد نے رات کی تاریکی میں بجلی نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر اس پر یہ حملہ کر دیا تھا۔

یہ واقعہ ایک روز قبل ہوا تھا لیکن ہسپتال لانے تک اس بدقسمت عورت کے کپڑے تک نہ تبدیل کیے گئے اور نہ اسے نہلایا گیا۔

تیزاب اس دوران اپنا کام کرتا رہا اور جسم تو نہیں دیکھ سکا لیکن اس کے کپڑے تار تار ہوچکے تھے۔ ڈاکٹروں نے اسے فورا نہلانے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے چہرے کو شمع سے زیادہ نقصان پہنچا تھا۔

ویسے تو پاکستان کے ہر خطے میں عورتوں پر تشدد عام ہے لیکن اس وراڈ میں ایک دن گزارنے سے محسوس ہوا کہ شاید جنوبی پنجاب کا یہ علاقہ تیزاب کے استعمال کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عورتوں کے لیے مخصوص یہ وارڈ نمبر دس اے اذیت بھری کہانیوں کا ڈائجسٹ ہے

عالمی سطح پر ’سیونگ فیس’ جیسی دستاویزی فلم کو آسکر جیسا ایواڈ ملنے اور پاکستانی پارلیمان کی جانب سے گزشتہ دنوں تیزاب حملوں کو روکنے کی غرض سے سزاوں کے قانون کو مزید سخت بناتے ہوئے سزا چودہ برس کر دیا ہے لیکن اس کے بعد بھی ان حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

نشتر ہسپتال کے برن وارڈ کے ڈاکٹر بلال سعید کہتے ہیں کہ تیزاب سے متاثرہ عورتوں کو اس وقت کی تکالیف برداشت کرنے کے علاوہ مکمل بحالی کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ ’ان کی تکالیف جسمانی سے زیادہ ذہنی ہوتی ہیں۔ کئی کے جسمانی زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن ذہنی نہیں‘۔

شمع سے پوچھا کہ آیا اس نے تیزاب پھینکنے والوں کے خلاف سزا سخت کیے جانے کے بارے میں سوچا ہے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ دریافت کیا کہ کیا وہ کیا چاہتی ہے اس کے شوہر کے ساتھ کیا کیا جانا چاہیے تو وہ کرخت آواز میں بولی کہ ’اسے تو اپاہج بنانے جیسی سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ اسے تمام عمر اپنی حرکت کا احساس رہے۔ موت جیسی آسان سزا اس کے لیے درست نہیں۔’

یہ سب سننے اور دیکھنے کے بعد میرے لیے اس وارڈ میں مزید رکنا ناممکن تھا۔

اسی بارے میں