سکردو سوگوار ہے۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکردو کے چوبیس شہری گیاری میں تعینات سِکس این آئی بٹالین کا حصہ تھے

بالاخر میں سکردو میں ہوں جب میرے ہم مکتب میجر ذکاء الحق اور اُن کے ایک سو اڑتیس ساتھیوں کو منوں برف تلے دبے ہوئے چھ دن گزر چکے ہیں۔

گیاری سیکٹر کے نزدیک ترین ہوائی اڈے، سکردو میں موسم کی خرابی کے باعث اسلام آباد سے صحافیوں کے پہنچنے کے لیے فوج کا ہیلی کاپٹر پرواز پکڑ سکا نہ سرکاری ائرلائن کا جہاز۔ چنانچہ میں نے سڑک پکڑنے کا ارادہ کیا۔

تقریباً ڈھائی سال پہلے تفریح کے لیے شمالی علاقہ جات میں چین سے ملحقہ خنجراب پاس تک بذریعۂ سڑک گیا تھا اس لیے بخوبی اندازہ تھا کہ سفر طویل اور کٹھن رہے گا۔

پہاڑی علاقوں کے لیے موزوں جیپ، ڈرائیور، کوریج کا ساز و سامان اور فوج کے ساتھ رابطہ کاری کے ابتدائی قواعد پورے کرنے کے بعد سفر پر نکل پڑا۔

گلگت بلتستان کو جانے والی قراقرم ہائی وے یا شاہراہِ ریشم، پُرخطر مگر قدرتی خوبصورتی سے بھرپور سفر کا تجربہ دیتی ہے۔ پُرپیچ سڑک پہاڑی سلسلوں کو چیرتی ہوئی گزرتی ہے جبکہ اس کے دوسری جانب گہری کھائی میں دریائے سندھ بہتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ضلع شانگلہ کے صدر مقام، بشام میں چند گھنٹوں کے لیے ایک ہوٹل پر رکا تو ایک فوجی قافلہ بھی چائے پانی کے لیے وہاں آن پہنچا۔ گپ شپ سے پتہ چلا کہ مظفرآباد میں تعینات، تیس کے لگ بھگ جوانوں کا یہ قافلہ، ساز و سامان سے لیس ہو کر گیاری سیکٹر کی جانب رواں دواں ہے تاکہ وہاں پر جاری ریسکیو آپریشن میں ہاتھ بٹا سکے۔

گلگت بلتستان کے پہلے ضلع چلاس کی چیک پوسٹ پر پوچھے گئے سوال نے حیران کر دیا۔ پولیس اہلکار نے تصدیق چاہی کہ میں اور میرا ڈرائیور محمد عمر، سنی فرقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ ایسا ہی تھا لیکن میں نے مقامی ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کرنے کا کہا جن سے بات کرکے اور حالات جان کر روانہ ہوا تھا۔ سفر جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی فوج کے ایک سو اٹھائیس اہلکار اور گیارہ شہری برف کے سمندر تلے دفن ہیں

چلاس اور گلگت میں جمعرات تک تمام موبائل فون نیٹ ورک جام تھے۔ اس کی وجہ اپریل کے شروع میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات تھے جن میں دونوں جانب سے کم سے کم پندرہ افراد مارے گئے تھے۔ ایک مقام پر جلی ہوئی پانچ بسیں اور ایک گاڑی دیکھ کر چند لمحوں کے لیے احساس ہوا کہ میں کسی جنگ زدہ علاقے سے گزر رہا ہوں۔

سکردو کی سڑک شاہراہِ ریشم سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ قراقرم کے سنگلاخ پہاڑی سلسلے کی آغوش میں سڑک بنائی گئی ہے جس پر ایک وقت میں ایک گاڑی گزر سکتی ہے۔ دائیں جانب، سینکڑوں فٹ کی گہرائی میں بہتا ہوا دریائے سندھ، قراقرام اور ہمالیہ کی چٹانوں کو الگ رکھتا ہے۔ راستے میں گزرنے والا ہر شخص مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کے لیے ہاتھ ضرور ہلاتا ہے۔

شہر کے قریب پہنچتے ہی چوبیس گھنٹوں سے جاری سفر کا سارا رومانس ختم ہو گیا۔ ضلع سکردو کے کچورہ گاؤں کے مقامی لوگوں کے ساتھ کچھ دیر کے لیے گپ شپ ہوئی۔ یوں لگا کہ اپریل کے آغاز سے سکردو سوگوار ہے۔

سکردو میں فسادات میں ہلاک ہونے والے سات شہریوں کی مسخ شدہ لاشوں کی آمد کا ماتم ختم نہیں ہوا تھا کہ سات اپریل کو گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے کی اطلاع آ گئی۔ ضلع کے چوبیس شہری وہاں پر تعینات سِکس این آئی بٹالین کا حصہ تھے۔

جتنے لوگوں سے بات ہوئی، کسی کو یاد نہیں کہ اُس کی زندگی میں کبھی کسی قدرتی آفت یا پرتشدد واقعے کے باعث، ایک ہفتے میں اکتیس افراد کے ماتم کا موقع آیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جلی ہوئی پانچ بسیں دیکھ کر چند لمحوں کے لیے لگا کہ میں کسی جنگ زدہ علاقے سے گزر رہا ہوں

گیاری سیکٹر کے واقعے کے بعد، مقامی مساجد میں اعلانات کیے گئے کہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہونے والی سات اموات کے خلاف احتجاج کو ایک طرف رکھ کر، گیاری سیکٹر کی امدادی کاررائیوں پر توجہ دی جائے جس کے بعد درجنوں مقامی لوگ وہاں کے لیے روانہ ہوئے۔

آج جمعہ کو یومِ سوگ تھا اور تمام کاروباری سرگرمیاں بند رہیں۔ سپیکر پر نمازِ جمعہ کا خطبہ دینے والے امام نے بھی گیاری سیکٹر میں دبے ہوئے افراد کے اہلخانہ کے لیے خصوصی دعا کی اپیل کی۔

گیاری سیکٹر کی حدود میں قیام کے لیے درکار خصوصی لباس و سامان کے ساتھ روانگی کے لیے تیار ہوں۔ کوریج کے لیے فوج نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ گیاری سیکٹر مزید پانچ گھنٹوں کی مسافت پر ہے اور سطح سمندر سے کوئی بارہ ہزار فٹ بلند ہے۔

اسلام آباد کی گرمی میں ائرکنڈیشنڈ ماحول سے نکل کر، خیبر پختونخوا کے خوشگوار موسم اور شمالی علاقہ جات کی سرد ہواؤں سے گزرنے کے بعد، پہلی مرتبہ سیاچن گلیشیئر سے پالا پڑے گا جہاں کے گیاری سیکٹر کے لیے میرا اصل سفر اب شروع ہوا ہے۔

اسی بارے میں