بنوں جیل پر حملہ، تین سو چوراسی قیدی فرار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں حکام کے مطابق سینٹرل جیل پر دو سو پچاس کے قریب مسلح طالبان نے حملہ کر کے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے، جن میں زیادہ تر شدت پسند تھے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے بنوں کی سینٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ فرار ہونے والوں میں اہم طالبان کمانڈر بھی شامل ہیں۔

بنوں پولیس کے ایک افسر میر صاحب خان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو دو سو پچاس طالبان جنگجووں نے سینٹرل جیل پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔

ان کے مطابق حملہ آور گاڑیوں میں سوار اور پیدل تھے۔

پولیس افسر کے مطابق حملے میں طالبان تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا کے اپنے ساتھ لیجانے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں زیادہ تر طالبان شدت پسند تھے جن کو سزا بھی ہوئی تھی۔

اہلکار کے مطابق شدت پسند طالبان کے حملے میں فرار ہونے والوں میں اہم شدت پسند کمانڈر بھی شامل ہیں۔جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔

ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے قیدی عدنان رشید بھی شامل ہیں۔جو جیل کے اندر پھانسی گاٹ میں موجود تھے۔

پولیس اہلکار نے بتایا طالبان کے بنوں سینٹرل جیل پر حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی بھی ہو گئے ہیں۔جن کو ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت جیل میں نو سو چھیالیس قیدی موجود تھے۔جن میں بعض قیدیوں نے طالبان کے ساتھ جانے سے خود انکار کیا۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ جیل کے اندر کارروائی کی ہے اور اس حملے میں جیل کی چار دیواری اور کمروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کی سینٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ رہا کرائے جانے والے قیدیوں میں تحریک طالبان کے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل پر حملے کی کئی ماہ سے منصوبہ بندی کر جا رہی تھی۔

اس سے پہلے جیل کے قریب بنوں کے رہائشی مہربان نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کو دو بجے کے قریب زوردار دھماکے ہوئے اس کے بعد سارے گاؤں والے گھروں سے باہر نکل آئے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام گاؤں والوں کو پتہ چلا کہ طالبان نے جیل پر حملہ کیا ہے کیونکہ وہ نعرے لگا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کی صُبح ہوتے ہی وہ سینٹرل جیل پہنچ گئے اور ان کی طرح قریبی علاقے سے مزید سینکڑوں لوگ وہاں پہنچ گئے۔

مہربان کے مطابق سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے کو راکٹ حملے سے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار نے ان کو جیل کے اندر جانے کی اجازت دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل کے اندر کمروں یا دوسری املاک کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا البتہ جتنے بھی تالے تھے وہ تمام کے تمام توڑے گئے ہیں۔

بعض عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مُسلح طالبان درجنوں گاڑیوں میں ایک جلوس کی شکل میں واپس شمالی وزیرستان میں داخل ہوگئے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جیل کے اطراف میں سنیچر اور اتوار کر درمیانی شب دو بجے سے صُبح تک فائرنگ ہوتی رہی لیکن طالبان کا معلوم نہیں کہ وہ کس طرح محفوظ واپس پہنچ گئے۔

اسی بارے میں