جیل توڑنے کا دوسرا بڑا واقعہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بنوں جیل توڑنے کا واقعہ پاکستانی تاریخ کا ایسا دوسرا بڑا واقعہ ہے

چھ سال قبل جب میران شاہ میں طالبان اور سیکورٹی فورسز میں لڑائی عروج پر تھی اور ہسپتال کو دھماکے سے اڑادیا گیا تھا تو اس کی کوریج کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ میرے بنوں پہنچنے کے ایک گھنٹے کے اندر بعض صحافیوں اور انٹیلی جنس والوں کو میری آمد کا معلوم ہوگیا۔

میں اپنے اس مشاہدے کی بنیاد پر یہ نہیں مان سکتا کہ بنوں جیل پر سو سے زائد جدید اسلحے سے لیس طالبان حملہ کریں، جیل توڑ کر اپنے لوگوں کو بھگا کر لے جائیں اور ہماری انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کو پتہ ہی نہ چلے!۔

بنوں جیل شہر کے اندر واقع ہے اور اس کے آس پاس جہاں حساس ادارے کا دفتر ہے وہاں آبادی بھی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ بنوں شہر میں موجود، فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز کو طالبان کے دو گھنٹے کے آپریشن کا پتہ ہی نہ چلے؟

جیل کے اندر خاصی تعداد میں پولیس اہلکار ہوتے ہیں اور حملہ آور طالبان پر کسی نے گولی چلائی، کوئی زخمی ہوا نہ ہلاک۔ بتایا جاتا ہے کہ جیل کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی جیل میں کیا صرف چار اہلکار ہی ڈیوٹی پر تھے؟

بنوں شہر سے قبائلی علاقے کی حد تقریبا نو کلومیٹر کے بعد شروع ہوتی ہے اور میران شاہ تک تو پہنچنے میں ڈھائی سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ راستے میں سکیورٹی فورسز کی بہت سی چوکیاں ہیں اور کہیں پر بھی تین سو سے زائد قیدیوں اور ایک سو سے زائد انہیں چھڑانے والے حملہ آوروں کے جلوس کو نہیں روکا گیا اور وہ آرام سے چلے گئے؟۔

جیل توڑنے کے بعد اتنا عرصہ سکیورٹی فورسز نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟۔ بنوں اور آس پاس میں تین سے زائد مقامات پر ہیلی کاپٹر موجود ہیں لیکن کسی کو احساس نہیں ہوا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے ملزم عدنان رشید سمیت حظرناک ملزمان کی رہائی پر ان کا پیچھا کیا جائے؟۔

بنوں جیل توڑنے کا واقعہ پاکستانی تاریخ کا دوسرا بڑا جیل توڑنے کا واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ مارچ انیس سو چھیاسی میں سکھر جیل توڑنے کا ہوا۔ جب بارہ جیپوں میں چالیس حملہ آور پولیس کی وردیاں پہن کر آئے اور سیڑھیاں رکھ کر جیل کی اونچی دیوار پر سنتریوں کے چبوتروں میں پہنچے، ان پر قبضہ کر کے بجلی کی تاریں کاٹ کر تیس کے قریب سزا یافتہ مجرموں (بیشتر ڈاکوؤں) کو رہا کروا کر لے گئے۔

انیس سو چھیاسی میں اس واقعے کو سکیورٹی کی کوتاہی قرار دیا گیا اور کچھ پولیس اہلکار معطل کر کے جانچ بھی کروائی گئی لیکن وہ رپورٹ کبھی سرکاری طور پر منظر عام پر نہیں آئی۔

البتہ اُس دور کے بعض سینئر پولیس اہلکاروں نے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ راز فاش کیا تھا کہ سکھر جیل توڑنے کا واقعہ ‘قومی مفاد’ میں پیش آیا تھا، تا کہ سندھ میں ڈاکو راج کو تقویت دی جا سکے۔ کیونکہ اس وقت کے فوجی حاکم ضیاءالحق کی یہ پالیسی تھی۔

مجھے تو خدشہ ہے کہ کہیں بنوں جیل توڑنے کا واقعہ بھی ‘قومی مفاد’ میں نہ پیش آیا ہو!۔