صدر، وزیراعظم کا گیاری کا دورہ ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے کے حادثے کے بعد امدادی کام جاری ہے: پاکستانی فوج

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے گیاری سیکٹر میں صدر اور وزیر اعظم کا پیر کو مشترکہ دورہ موسم کی خرابی کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سات اپریل کو ہونے والے حادثے کے اس مقام کا پیر کو دورہ کرنا تھا جہاں برفانی تودہ گرنے سے تقریباً ایک سو چالیس افراد دب گئے ہیں۔

دورے کی مزید معلومات بتانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ان کے دورے کی نئی تاریخ بھی نہیں بتائی جا رہی ہے۔

صحافیوں کا ایک وفد بھی اسلام آباد سے پیر کو پرواز کے ایک گھنٹے بعد خراب موسم کی وجہ سے واپس لوٹ گیا۔

صدر اور وزیر اعظم پر گیاری سیکٹر کا دورہ نہ کرنے پر اب تک بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی تھی۔ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تاہم واقعہ کے دوسرے روز جائے حادثہ کا دورہ کیا تھا۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں جاری امدادی آپریشن میں موسم سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔

پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقے میں مسلسل برفباری ہو رہی ہے تاہم خراب موسم کے باوجود امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ برف میں دبے ایک سو انتالیس افراد تک رسائی کے لیے کھودی جانے والی سرنگ پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں دھماکہ خیز مواد کی مدد سے برف ہٹائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تین مقامات پر بھی کھدائی کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں