’چلیں چلیں‘

سیاچن میں تلاش جاری تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption غیر متوقع موسمی تبدیلی امدادی کارروائی کی سست روی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔

جس قدر سفر کر چکا تھا، اس کے بعد، گیاری سیکٹر کے تباہ کن تودے پر چڑھتے ہی ہمت ہار دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میرا ارادہ تو یہاں رات گزار کر براہِ راست رپورٹنگ کرنا تھا اس لیے پانچ منٹ تک پوری قوت جمع کر کے آگے بڑھنے لگا۔

ہزاروں فٹ اونچی چٹانوں کے درمیان آ کر گرنے والے گلیشیر کے تودے نے وادی کو انگریزی کے حرف ’ایچ‘ کی طرح بنا دیا ہے۔

دھیرے دھیرے پہاڑی نماء تودے کی سطح پر پہنچتے ہی، گیاری سیکٹر کے کمانڈر بریگیڈئر ثاقب ملک نے استقبال کیا۔ سفر کا احوال لینے کے بعد، نوید سنائی کے میں وہاں تک پہنچنے والا پہلا صحافی ہوں۔ انہیں بھی احساس تھا کہ میڈیا گیاری سیکٹر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرے لیکن موسمی شدت کی مجبوریوں اور ریسکیو آپریشن کی مصروفیات کے باعث سات دن گزرنے کے باوجود یہ موقع نہیں آ سکا۔

بریگیڈئر ثاقب نے خبردار کیا کہ وہاں پر زیادہ وقت گزارنا میری صحت کے لیے ناقابلِ تلافی حد تک نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اس لیے جس قدر جلدی ہو سکے اپنا کام ختم کر لوں۔ پینتالیس منٹ کا وقت گزارنا محفوظ قرار دیا گیا۔

سکردو سے گیاری تک ہمیں تصویریں کھینچنے یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے منزل پر پہنچ کر صحافتی اوزار آن کیے۔ میں نے اپنے ساتھی صحافی فرمان علی کو کہہ رکھا تھا کہ وہاں پہنچتے ہی جس قدر ہو سکے، اضافی کیمرہ پکڑ کر تصاویر اور ویڈیو بناتے چلے جائیں اور میں انٹرویو وغیرہ کرنے میں مصروف رہوں گا۔

لیکن مقامی صحافی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ کر مجھے کہا گیا کہ، انہیں منع کیا جائے کیونکہ کیا تصویر لینی ہے، کیا نہیں، اس بارے میں بتا دیا جائے گا۔

سات اپریل کو برفانی تودہ گرنے کے بعد سے، کمانڈر بریگیڈئر ثاقب ملک، اور شمالی علاقہ جات کی فوج کے سربراہ میجر جنرل اکرام الحق گیاری سیکٹر میں ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ اُن دونوں نے کُھل کر میرے ہر سوال کا جواب دیا۔ لیکن روایتی فوجی انداز میں جس محدود پیرائے میں رکھتے ہوئے مجھے کام کرنے دیا جا رہا تھا اسے میں نے صحافتی آزادی کے لیے گھٹن محسوس کیا۔

ایک مقام پر مجھے، لوہے کے راڈ والے فوجیوں کی تصویر لینے سے منع کر دیا گیا کیونکہ وہاں دفتری امور نمٹانے کا عارضی خیمہ بن رہا تھا۔ جواز یہ دیا گیا کہ میری موجودگی کا مقصد ریسکیو آپریشن پر رپورٹنگ کرنا ہے۔ حالانکہ جس کٹھن مقام پر پاکستانی فوج، یہ آپریشن کر رہی ہے وہاں پر کرینوں اور بلڈوزر کے علاوہ، چوبیس گھنٹے کام کرنے والی سپاہیوں اور افسران کے لیے، عارضی دفاتر، حاجت خانے، باورچی خانے یا آرام گاہیں بنانا بھی ضروری ہیں۔ اِس لیے اِن کے ذکر یا تصاویر میں کیا حرج؟

تین کرنل اور چار سپاہیوں کے جھرمٹ میں صحافتی آزادی کی گھٹن کے خیالات اس وقت ٹوٹے جب گیاری سیکٹر میں تقریباً پچاس منٹ گزارنے کے بعد، بتدریج، میرے گٹھنے کا درد، بارہ سال بعد دوبارہ اٹھنے لگا۔ سانسوں کی گنتی بھولنے لگی اور ہونٹ پھٹنے لگے اور ناک سے پانی بہنے لگا۔

جہاں کہیں تصویر لینے کی اجازت پر کیمرے کا بٹن دبانے کے لیے دستانے اتارے، ہاتھ اس قدر جم جاتے کہ ادھوری جنبش سے تصویر ہِل جاتی۔ یہ گیاری سیکٹر میں دوپہر دو بجے کا وقت تھا اور رات کو اِن دنوں وہاں کا درجۂ حرارت منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ میرے ہوتے ہوئے برف کی پھوار شروع ہو گئی۔ جسمانی توازن ہلا دینے کی رفتار سے، سیاچن گلیشیر کی سرد ہوا، اپنی گڑگڑاہٹ کے ساتھ لگاتار چلتی رہی۔ میری رہنمائی کرنے والے فوجی افسران کی طرف سے ’چلیں چلیں‘ کی آوازیں بھی بڑھنے لگیں۔

میں نے طویل قیام جیسے ارادے ترک کر کے اپنی سانسیں اور الفاظ بچانے کا فیصلہ کیا تاکہ اِنہیں، حقائق کے ساتھ وہیں سے بیان کر سکوں جہاں زندگی نارمل ہو۔ گیاری سیکٹر سے سکردو کے لیے واپسی پکڑی۔

گیاری سیکٹر کے تجربے نے قائل کیا کہ اُس مقام پر ہونا، جانا یا رہنا جنونیت سے کم نہیں۔ یہ مقام سیاچن گلیشیر کے پاک بھارت محاذ کے پیروں میں ہے اور پاکستانی فوج کے افسران اور سپاہی، اِس سے مزید چھ ہزار فٹ کی بلندی تک متنازعہ سرحدیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہاں پہنچنے کے بعد، فوجیوں کی فکر اور تربیت، دشمن کے ساتھ لڑنے سے زیادہ، موسمی شدت برداشت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

اگرچہ مجھے ملنے والے تمام فوجی، ایک صحافی سے بات چیت کے دوران اپنی پیشہ ور حدود سے باہر نہیں نکلے لیکن افسران سے لے کر سپاہیوں تک، اُنہیں درپیش غیر معمولی جسمانی مسائل واضح تھے۔ کوئی سیاچن سے واپسی کے بعد، گھٹنوں کے مستقل درد کے باعث آسان ڈیوٹی پر معمور تھا، کوئی رُک رُک کر ایک لفظ منہ سے نکالنے سے پہلے، گہری سانسوں کی دو آہیں بھرتا تھا تو کسی کے کان میں پڑنے والے الفاظ، دماغ تک پہنچنے اور پھر جواب دینے کے لیے نسبتاً زیادہ وقت لیتے تھے۔

تمام فوجیوں نے ایک بات ضرور دوہرائی کہ سیاچن کا موسم ہر ایک پر اثر کرتا ہے البتہ اِس کے نتائج کا انحصار، انفرادی مدافعت پر ہے۔ شاید اسی لیے مجھے، اُن تمام اصول و ضوابط پر زبردستی عمل کرایا گیا جنہیں میں نے اپنی صحافتی آزادی کے لیے گھٹن سمجھا کیونکہ میں وہاں کے حقائق سے بالکل ناواقف تھا۔

گیاری سیکٹر میں موجود ایک سو انتالیس اہلکاروں پر موسمی مشکلات کم نہیں تھیں جب سات اپریل کو انہیں ایسی آفت نے آ لیا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھی۔ آج وہیں پر انہیں مشکلات اور خطرات کے باوجود، جرنیل سے لے کر سپاہی تک، تقریباً پانچ سو فوجی، اپنے ساتھیوں کو نکالنے کے لیے کوئی دو سو فٹ اونچی پہاڑی ہٹانے میں دن رات مصروف ہیں۔

اسی بارے میں