ایسے لگا کہ کچھ ہوا ہی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے سینٹرل جیل پر دو سو پچاس کے قریب مسلح طالبان نے حملہ کر کے تین سو چوراسی قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا جن میں زیادہ تر شدت پسند تھے۔ اس واقعے کے بعد مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی پشتو سروس کے رحمان اللہ اور بی بی سی اردو سروس کے دلاور خان وزیر سینٹرل جیل بنوں پہنچے۔

رحمان اللہ

ذہن میں تو یہ ہی تھا کہ بنوں سینٹرل جیل کے اطراف میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوگی بلکہ اتنے بڑے واقعے کے بعد جیل کے ارد گرد پرندے کو پر مارنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی لیکن وہاں پہنچنے پر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہاں سرے سے کچھ ہوا ہی نہیں۔

ہم یہ سوچ رہے تھے کہ شاید جیل جاتے ہوئے راستوں پر جگہ جگہ ناکے ہونگے، شناختی کارڈ چیک کیے جائیں گے اور سکیورٹی اہلکار ٹولیوں کی شکل میں آس پاس کے مقامات پر فرار ہوئے قیدیوں کے دوبارہ گرفتاری کےلیے چھاپے مار رہے ہونگے۔ ہمیں یہ خوف بھی تھا کہ شاید سکیورٹی انتظامات کے باعث ہم پشاور سے بنوں بر وقت پہنچ ہی نہ سکیں۔ لیکن کوہاٹ ٹنل سے لے کر بنوں جیل تک کسی بھی علاقے میں شناختی کارڈ چیک کیا گیا اور نہ ہی ہماری گاڑی کی تلاشی لی گئی۔

راستے میں ایک دو جگہوں پر پولیس چیک پوسٹوں سے گزر ہوا تو اسی خیال سے گاڑی کی رفتار کم کر دی کہ شاید روکنے کا اشارہ ملے لیکن چھاؤں میں چارپائی پر براجمان پولیس اہلکار اپنی سیٹوں سے نہ اٹھے۔

بنوں جیل کے مرکزی دروازے کے سامنے اپنی گاڑی کھڑی کرتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ گیٹ پر مامور اہلکار نے ہماری طرف دیکھنے کی زحمت گوراہ نہ کی اور وہ اپنی خوش گپیوں میں مصروف دکھائی دیے۔

ہم نے جب ان سے جیل انچارج سے انٹرویو کی بات کی تو اہلکاروں میں سے ایک نے فوراً حامی بھرتے ہوئے خود کو انٹرویو کےلیے پیش کردیا۔ پولیس اہلکار نے جیل توڑنے کی پوری روداد کچھ اس فخریہ انداز سے بیان کی کہ جیسے انہیں کسی کارنامے کے عوض گولڈ میڈل ملا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دو منٹ انٹرویو کے بعد میرے ساتھی نے جب دیکھا کہ مائیک آن نہیں تھا تو دوبارہ انٹرویو کےلیے درخواست کی گئی جس پر اہلکار نے بغیر کسی حیل و حجت کے اپنا نام لے کر دوبارہ بولنا شروع کیا اور پورا قصہ بیان کردیا کہ کیسے جیل پر حملہ ہوا اور کتنے حملہ آور تھے وغیرہ وغیرہ۔

پولیس اہلکار بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ دوسرے چینلز کو بھی انہوں نے انٹرویو دیے اور اس وقت ہر چینل پر انہی کا انٹرویو چل رہا ہے۔ جیل کے اس دورے کے دوران میری ان سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر تھی جو اس واقعے کے دوران موجود رہے اور طالبان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی کیا۔ لیکن ان اہلکاروں کی ’باڈی لینگوئج‘ اور چہروں پر ایسے کوئی تاثرات نظر نہیں آئے جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ یہاں کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے یا اس کا ان پر کوئی اثر ہوا ہے۔

جیل کے اندر یہی صورت حال دیکھ کر مجھے اس واقعے سے پہلے کی حالت کا اندازہ بخوبی ہوگیا کیونکہ اس سے پہلے اسی جیل کے ایک اہم قیدی عدنان رشید کا انٹرویو میں کر چکا تھا۔ جب ایک قیدی جیل سے کسی نشریاتی چینل کو کھلے عام انٹرویو دے سکتا ہے تو وہاں پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

عدنان رشید کو سابق فوجی صدر پرویز مُشرف پر حملے کے الزام میں موت کی سزا ہوئی تھی۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بنوں جیل پر حملہ ہی عدنان رشید کو چھڑانے کے لیے کیا گیا۔

جیل اہلکاروں کے مطابق شدت پسند حملے کے وقت عدنان رشید کا نام لے کر ڈھونڈ رہے تھے جو انہیں پھانسی گاٹ سے ملا۔

جیل میں موبائل فون پر مکمل پابندی ہے لیکن اہلکاروں کے مطابق بعض اوقات قیدیوں کو کسی نہ کسی طریقے سے یہ سہولت مل جاتی ہے۔

تاہم انٹرویو کے دوران یہی سوال میں نے عدنان رشید سے بھی کیا تھا تو ان کا جواب تھا کہ پاکستان میں ہر کام پیسے سے چلتا ہے۔

دلاور خان وزیر

پشاور سے بنوں کے پرانے راستے جیل پہنچے تو جیل کے بڑے دروازے پر موجود چند سنتری ایک ایسے ماحول میں ملے جیسے یہاں کوئی واقعہ پیش نہ آیا ہو۔

اکثر اوقات جب ملک میں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آ جائے تو پولیس اہلکار لوگوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔

جب ایک سنتری سے معلوم کرنا چاہا کہ کوئی ہے جو جیل کے واقعے کے بارے میں کچھ بتا سکے تو اس نے اپنے ایک دوسرے ساتھی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب طالبان شدت پسندوں نے جیل پر حملہ کیا تو اس وقت میر لائق خان ڈیوٹی پر موجود تھا۔

میرے کندھے پر دفتر کا بیگ تھا اسے اتار کر کیمرا اور مائیک نکال رہا تھا کہ اسی دوران معلوم ہوا کہ میر لائق خان کیمرے کے سامنے کھڑا ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔

میر لائق خان سے میرا سوال تھا کہ شدت پسند طالبان کیسے پہنچے تو انہوں نے بتایا ’رات ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔ ہم دو بندے ڈیوٹی پر تھے کہ اچانک پشاور کی جانب سے دو گاڑیاں آ کر کھڑی ہو گئیں۔‘

سنتری کے مطابق مسلح افراد نےگاڑیاں کھڑی کرتے ہی ان میں رکھا اسلحہ اتار لیا اور نعرے لگاتے ہوئے سامنے والی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن سنھبال لی۔

لائق خان نے بتایا کہ شدت پسندوں نے مارکیٹ سے جیل کی جانب فائرنگ شروع کی جس کے جواب میں انہوں نے بھی جوابی فائرنگ کی لیکن ان کے پاس صرف تیس گولیاں تھیں جو فوراً ہی ختم ہوگئیں جس کے بعد وہ دونوں سنتری ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گئے۔

لائق خان کے مطابق شدت پسندوں نے اسی دوران راکٹ سے مرکزی دروازے کو اڑا دیا اور اس کے قریب کمرے پرگرنیڈ پھینکا جس سے کمرے میں آگ لگ گئی اور وہ نعرے لگاتے ہوئے اندر داخل ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بنوں جیل میں جتنے بھی سپاہی ڈیوٹی پر موجود تھے تقریباً ہر ایک نے قریبی تھانے اور انتظامیہ سے رابطہ کیا لیکن وہاں سے یہ جواب موصول ہوا کہ تمام راستوں پر طالبان موجود ہیں اس لیے وہ نہیں آسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنوں جیل پر حملے کے وقت طالبان کے تین سو اکاسی اہم ساتھی موجود تھے اور وہ بغیر کسی مزاحمت کے انہیں آزاد کروانے میں کامیاب ہوگئے۔

میر لائق خان کے مطابق جیل کے آس پاس کے علاقے میں ایک پولیس تھانہ اور سکیورٹی فورسز کی چار چیک پوسٹیں بھی موجود ہیں۔ ان کے بقول ’میں خود حیران تھا کہ وہ لوگ یہاں کیسے پہنچے البتہ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ طالبان کس راستے سے واپس چلے گئے۔‘

سینٹرل جیل بنوں کے سپریڈینڈنٹ زاہد خان نے بتایا کہ انہیں کسی نے بھی بنوں جیل پر ہونے والے حملے کی اطلاع نہیں دی تاہم ان کا گھر جیل احاطے میں واقعہ ہے اسی لیے جب انہوں نے راکٹ اور گولیوں کی آوازیں سنیں تو وہ خود گھر سے باہر آگئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ خالی ہاتھ تھے اور انہوں نے اس دوران مختلف پولیس سٹیشنوں سے رابطہ کیا لیکن انہیں کوئی مدد نہ مل سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ شدت پسندوں کی تعداد کتنی تھی کیونکہ پولیٹکل انتظامیہ ایف سی آر میں جو لوگ ان کے پاس بھیجتی ہیں اس میں اس بات کا ذکر نہیں ہوتا ہے کہ یہ شدت پسند ہے یا کوئی اور مجرم۔

سپرنٹنڈنٹ بنوں جیل زاہد خان نے بتایا کہ انہوں نے اعلٰی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ جیل کی سکیورٹی محفوظ نہیں ہے۔

جیل میں موجود ایک قیدی نے بتایا کہ وہ ایک کمرے میں ساٹھ قیدیوں کے ساتھ موجود تھے جب طالبان ان کے کمرے میں پہنچ گئے۔

قیدی کے مطابق انہیں طالبان کی جانب سے بتایاگیا کہ وہ کمرے کے ایک جانب ہو جائیں تاکہ تالے توڑنے کے دوران کہیں ان پر گولی نہ لگ جائے۔

قیدی نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کی داڑھیاں اور لمبے بال تھے اور وہ نعرے لگا رہے تھے جس کی وجہ سے ان کے کمرے کے قریب واقع ایک دوسرے کمرے میں جو خواتین موجود تھیں وہ خوف کی وجہ سے رو رہی تھیں۔

قیدی کے مطابق ان کے کمرے میں آٹھ حملہ آور داخل ہوئے اور کمرے میں موجود ساٹھ میں سے چالیس سے زیادہ قیدی ان کے ساتھ چلے گئے تاہم انہوں نے خود حملہ آورں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں