تعلیم کا خواب اور معاشرہ

زہرہ لبانو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زہرہ بی بی کو بھی طعنہ ملتے رہتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ سر ہاتھ پر لے کر نکلی ہیں۔

باون سالہ زہرہ لبانو کا خواب ہے، بچیوں کا ایک سکول۔ جس کے قیام کے لیے وہ محکمہ تعلیم کے کئی ماہ سے چکر لگا رہی ہیں۔

یہ لگن شاید اس احساس محرومی کا اظہار ہے جس کا وہ برسوں سے سامنا کرتی رہی ہیں۔

زہرہ بی بی کا تعلق سندھ کے ضلع شکارپور کی یونین کونسل وزیرآباد سے ہے۔

ان کی زندگی میں یہ نیا موڑ اس وقت آیا جب تین سال قبل گاؤں میں کمیونٹی آرگنائزیشن قائم کی گئی، یہ تنظیم سندھ رورل سپورٹ پروگرام کی کاوشوں سے قائم ہوئی، جو صوبائی حکومت کے مالی معاونت سے غربت کے خاتمے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

زہرہ بی بی بتاتی ہیں کہ بارہ سال کی عمر میں ان کی شادی کردی گئی، اس وقت انہیں کھیتی باڑی کا کام نہیں آتا تھا اور وہ بھینسوں کے دودھ لینے سے بھی ناواقف تھیں۔ مگر بقول ان کے شوہر نے ہاتھ میں ڈنڈے پکڑ کر کہا کہ یہ سب کام کرنا پڑے گا۔

’اگر میں پڑھی لکھی ہوتی تو کسی شہری علاقے میں میرا رشتہ ہوتا اور میری زندگی کافی حد تک بہتر ہوتی۔‘

زہرہ بی بی کے گاؤں میں سکول کی عمارت موجود تھی مگر برسوں سے بند تھی۔

انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ اب وہ کمیونٹی آرگنائزیشن کی صدر منتخب کی گئی ہیں تو انہیں ان کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔

سب نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ گاؤں کا سکول کھلنا چاہیے جس کے بعد انہوں نے محکمہ تعلیم کے ضلعی افسر سے ملاقات کی، نتیجے میں سکول کھل گیا اور چار ٹیچر بھی مقرر ہوگئے۔ اب اس سکول میں تین سو سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جن میں بچیاں بھی شامل ہیں۔

زہرہ بی بی کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں کہتے ہیں کہ اگر لیڈی ٹیچر ہو تو وہ اپنی بچیاں سکول بھیجنے کے لیے تیار ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے لاڑکانہ میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے بات کی ہے۔

انہوں نے محکمہ تعلیم کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک عمارت تعمیر نہیں ہوجاتی گاؤں میں کرائے کی جگہ میں سکول قائم کریں، مگر انہیں یہ پریشانی ہے کہ جگہ کا کرایہ، فرنیچر، اور چپڑاسی کی تنخواہ، وہ کہاں سے دیں گی۔

سماجی کام میں مصروف ہونے کے باوجود ان کے معمولات زندگی جاری رہتے ہیں، وہ صبح سویرے اٹھتی ہیں اس کے بعد کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور دوپہر کو لوگوں کے پاس جاتی ہیں اس کے بعد دوبارہ گھر کے کام کاج میں لگ جاتی ہیں۔

شکارپور کا شمار سندھ کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں خواتین روایتی مردانہ رویوں کا سامنا کر رہیں ہیں۔ زہرہ بی بی کو بھی طعنہ ملتے رہتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ سر ہاتھ پر لے کر نکلی ہیں۔

’ کھیت کا کام کریں، گھر کا کام کاج اور بچوں کی دیکھ بحال ۔ مرد شام کو گھر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تھک ہوئے ہیں، ہم جب ان کی عزت کرتے ہیں تو انہیں بھی ہماری عزت کرنی چاہیے۔‘

گاؤں کی حاملہ خواتین کی ذمہ داری بھی زہرہ بی بی نے اٹھالی ہے۔ بقول ان کے پہلے ہسپتالوں کے ماحول کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا تھا اور گھروں پر ڈلیوری ہوتی تھی۔’اب ہم مردوں کا انتظار نہیں کرتی ہیں، ٹیکسی کرائے پر لیکر ہپستال پہنچ جاتی ہوں۔‘

ایک سادہ سی عورت کے پاس بتانے کے لیے کئی واقعات ہیں، جس میں ان کا کوئی نہ کوئی کردار واضح ہوتا ہے۔ ان کی کوششوں سے اب گاؤں میں چوکیداری نظام بھی قائم ہوچکا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ رمضان کی عید تھی اس روز بارش بھی بہت ہوئی، کچھ چور گاؤں میں گھس آئے اور بھینس چوری کرتے ہوئے ایک شخص کو زخمی کردیا۔ انہوں نے گاؤں والوں کو مشورہ دیا جس کے بعد تمام گاؤں والے باری باری سے چوکیداری کرتے ہیں اس کے بعد سے کوئی چوری نہیں ہوئی۔

رواں سال وہ اسلام آباد گئی تھیں جہاں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، اس تقریب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی شریک تھے، بقول نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مرد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں مگر خواتین نہیں چھوڑتیں۔

زہرہ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، جو دونوں تعلیم یافتہ نہیں مگر ان کی خواہش ہے کہ بیٹی تعلیم حاصل کرے، جس کے لیے وہ لیڈی ٹیچر اور گرلز سکول کی منتظر ہے۔