’گرفتاری پر انعام، حکومت تحفظ فراہم کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاہور ہائی کورٹ نے امریکہ کی طرف سےکالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت مقرر کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے یہ حکم حافظ سعید کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔

حافظ سعید نے درخواست میں امریکہ کی طرف سے اپنے سر کی قیمت مقرر کرنے کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں حکومت تحفظ فراہم کرے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس شیخ عظمت سعید کے روبرو حافظ سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ بھارت کے ایماء پر امریکہ نے ان کےموکل حافظ سعید اور ان کے قریبی ساتھی کے سر کی قیمت لگائی ہے جو بقول وکیل کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حافظ سعید پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد ہیں اور حافظ سعید کی تنظیم فلاحی کام کر رہی ہیں، درخواست گزار کا ممبئی حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک حافظ سعید کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

وکیل نے الزام لگایا کہ امریکہ درخواست گزار کو ہراساں کررہا ہے اور ان کے سر کی قیمت مقرر کرنا ریاست کے معاملات میں مداخلت ہے۔

اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے آئینی دفعات کا حوالے دیا اور کہا کہ ان دفعات کے تحت پاکستانی ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ کرے۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ حافظ سعید کو تحفظ فراہم کرے۔

درخواست پر مزید سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔

اسی بارے میں