’اجمل خان کو بازیاب کروایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اجمل خان عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے چچا زاد بھائی ہیں

پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ کی تنظیم پیوٹا نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل اغواء ہونے والے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دہشتگرد بنوں جیل سے تین سو سے زائد قیدیوں کو آزاد کروا سکتے ہیں تو حکومت ایک پروفیسر کو مذاکرات کے ذریعے سے کیوں رہا نہیں کرواسکتی؟

بدھ کو پیوٹا کے زیرِاہتمام پشاور یونیورسٹی کیمپس میں ایک احتجاجی اور بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اساتذہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عہدیدراوں اور پروفیسروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی کمیپ دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران اساتذہ مختلف وفود کی شکل میں احتجاج میں شامل ہوتے رہے۔

اس موقع پر پیوٹا کے ایگزیکٹو باڈی کے ممبران، یونیورسٹی سینیٹ اور سنڈی کیٹ کے عہدیدروں نے دو گھنٹے تک علامتی بھوک ہڑتال بھی کی۔

پشاور یونیورسٹی اساتذہ تنظیم کے صدر جمیل احمد نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ اجمل خان کو اغواء ہوئے دو سال پورے ہونے کو ہیں لیکن حکومت اور سکیورٹی اداروں کی نااہلی کے باعث انہیں ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر دہشت گرد بنوں جیل سے تین سو سے زائد قیدیوں کو آزاد کروا سکتے ہیں تو حکومت ایک سینئیر پروفیسر کو مذاکرات کے ذریعے سے کیوں رہا نہیں کرواسکتی؟۔

انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں انیس پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے ایسوسی ایشنز نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا تھا کہ مغوی وائس چانسلر کی بازیابی تک ہفتہ وار ہر یونیورسٹی میں احتجاجی کیمپ منعقد کیا جائے گا۔

سات ستمبر سنہ دو ہزار دس کو مسلح افراد نے وائس چانسلر اجمل خان کو ان کے ڈرائیور سمیت یونیورسٹی کے احاطے سے اغواء کیا تھا۔

اجمل خان صوبے کی ایک بڑی اور تاریخی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے چچا زاد بھائی ہیں اور انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ انہیں اسی لیے اغواء کیا گیا ہے کیونکہ ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔

اجمل خان کے اغواء کے بعد سے چار وڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں۔ اپنے آخری وڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر حکومت ایک غیر ملکی سوئس جوڑے کی رہائی کے بدلے سو طالبان جنگجوؤں اور لاکھوں ڈالر تاوان ادا کرسکتی ہے تو اپنے شہری کی رہائی کےلیے چار جنگجوؤں کو کیوں رہا نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ دل کے مریض ہیں اور ان کی صحت قید کی وجہ سے خراب ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں