شمع کو انصاف ملنے کی توقع نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین پر تیزاب پھینکے کے جرم میں سزائیں سخت کرنے کے باوجود اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اس موضوع پر پاکستانی دستاویزی فلم کے آسکر ایوارڈ جتنے سے اس مسئلہ کو کافی توجہ ملی۔ لیکن اب بھی ملک میں ہر سال ڈیڑھ سو خواتین مردوں خاص طور پر اپنے شوہروں یا سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے اس طرح کے جرم کا شکار بنتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی خواتین کو کبھی انصاف نہیں مل سکتا۔ بی بی سی کی نمائندہ اورلا گورن کی رپورٹ

اس کا نام شمع ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی جلد کو ایسے جلا دیا جیسے وہ موم بتی کا موم ہو۔

شمع جو چار بچوں کی ماں ہے ان عورتوں کی صف میں شامل ہو گئی ہے جو کہ تیزاب سے جلائے جانے کا شکار بن چکی ہیں۔ اس کو موت کا ڈر ہے کیونکہ اس کا جسم پندرہ فیصد جھلس چکا ہے۔ اس کا جرم اس کی خوبصورتی تھا۔

اس نے ہسپتال میں بتایا کہ اس کا اکثر اس کے میاں سے جھگڑا ہوتا تھا۔ اس دن سونے سے پہلے اس نے مجھ سے کہا کہ تجھے اپنی خوبصورتی پر بہت ناز ہے۔ اور پھر آدھی رات کے وقت وہ مجھ پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔

وہ بھاگتے وقت میرا موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گیا تاکہ میں کسی سے مدد نہ طلب کر سکوں۔

شمع نے مجھے اپنی چار ماہ پرانی تصویر دکھائی جو اس کے بچے کی ایک پارٹی پر لی گئی تھی۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جوان عورت کی تصویر تھی جو پورا بناؤ سنگھار کیے ہوئے تھی اور مالٹئی رنگ کے کپڑے پھنے ہوئے تھی۔

شمع اپنی خوبصورتی پر ناز کرنے پر حق بجانب تھی۔ اس کے بال پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے اور اس کے کانوں کی بالیاں نظر آ رہی تھیں۔ لیکن تیزاب نے اس کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس نے اپنے جلے ہوئے چہرے پر بہتے ہوئِے آنسوں کے ساتھ کہا کہ اسے یہ سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ وہ کیا تھی اور کیا ہو گئی ہے۔

میری زندگی کی سب خوشیاں ختم ہو گئی ہیں اور میں ایک زندہ لاش بن گئی ہے بلکہ زندہ لاش سے بھی بد تر۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ مجھے جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

شمع اب نشتر ہپستال ملتان کے وارڈ نمبر دس میں داخل ہے۔

Image caption شمع کے چار بچے ہیں

نشتر ہسپتال حکومت کی غفلت کا ایک شاہکار ہے۔ ہسپتال کی دیواروں سے جگہ جگہ پلستر اکھڑ رہا ہے ایک طرف چھت سے ایک پائپ لٹک رہا تھا جس سے پانی ٹپک رہا تھا۔ جب مریضوں کو خون کی ضرورت پڑتی ہے تو رشتہ داروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ بازار سے خون کی بوتلیں خرید کر لائیں۔

لیکن اس ہپستال کے ڈاکٹر تیزاب سے جلی ہوئی خواتین کا علاج کرنے کے ماہر ہیں۔ انھیں ہر ہفتے ایک یا دو ایسی خواتین مریضوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

ہر صبح وہ شمع کا معائنہ کرنے آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ خوارک لے رہی ہے اور اپنے آبلوں پر کریم لگا رہی ہے۔ وہ اس کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس کی ناامیدی کو کم نہیں کر سکتے۔

شمع کا کہنا ہے ’مجھے اپنے مستقل کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ شائد میں زندہ نہ رہوں۔ میں اپنے بچوں کے لیے کوشش کروں گی کہ میں دوبارہ ویسی ہی ہو جاوں۔ مجھے ان کا مستقل بنانے کے لیے کام کرنا ہے۔‘

اگر میں یہ نہ کر سکی تو پھر میں بھی وہی کروں گی جو دو اور لڑکیاں کر چکی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی ختم کر لی۔‘

کراچی کی ایک ناچنے والی لڑکی فاخرہ یونس نے ایسا ہی کیا تھا اور اپنی تکلیف سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی زندگی ختم کر لی تھی۔

تیزاب سے جلائی جانے والی اکثر لڑکیوں کو انصاف نہیں ملتا۔ فاخرہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دو بار مری تھی ایک مرتبہ جب تیرہ سال قبل اس پر تیزاب پھینکا گیا تھا اور دوسری مرتبہ گزشتہ ماہ جب اس نے اٹلی میں ایک عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی تھی۔

اپنی جان لینے سے قبل اسے چالیس مرتبہ آپریشن سے گزرنا پڑا۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ فاخرہ کو انصاف ملنے کی امید نہیں رہی تھی۔ اس کا سابق شوہر جو ایک بااثر سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس کو بری کر دیا گیا تھا۔

فاخرہ کی کہانی تو خبروں میں آئی لیکن اکثر ایسی لڑکیوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرا یوسف کا کہنا صرف دس فیصد کیس عدالتوں میں جاتے ہیں۔

فاخرہ جیسے بڑے مقدموں میں بھی ناقص تفتیش ہوتی ہے۔ اکثر جرم کا شکار بننے والی خواتین اپنا مقدمہ بھی درج نہیں کرا پاتیں۔

گزشتہ سال منظور کیے جانے والے قوانین کے تحت ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے کے لیے چودہ سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

اس قانون کی تجویز کنندہ رکن پارلیمنٹ ماروی میمن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مجرموں کو سزا نہیں مل پاتی۔

انھوں نے کہا کہ اگر مجرم پکڑا بھی جائے تو پولیس کو رشوت دے کر چھوٹ جاتا ہے۔

یہ عورت سے انتقام لینے کا آسان طریقہ ہے اس پر تیزاب پھینکیں اور اس کی زندگی کو چند لمحوں میں تباہ و برباد کر دیں۔

ماروی میمن کا کہنا ہے کہ اس قانوں پر عملدرآمد کروانے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

حکومت اس بات کا اعترا ف کرتی ہے کہ تیزاب کا شکار بننے والی خواتین کے لیے بہت کچھ کیا جانا چاہیے اور اس کا کہنا ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنا اور سزائیں دلوانا ایک بڑا چیلنج ہے۔

حکومت کی مشیر شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ قانون کا منظور کرایا جانا پہلا قدم تھا۔ لیکن کس طرح اس قسم کے مقدمات میں سزائیں دلوائیں جا سکیں اس پر کام کیا جانا باقی ہے۔ ہمیں پولیس، عدلیہ اور وکلاء برادری کو اس کا احساس دلانا ہو گا۔

نشتر ہسپتال کے دس نمبر وارڈ میں ایک اور خاتون کا داخل کرایا جاتا ہے۔ وارڈ میں داخل کرائی جانے والی خاتون کا نام مقصودہ ہے اور ابھی تک وہ اسی لباس میں ہے جس میں اس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔

اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور چادر کے نیچے سے اس کی جلی ہوئی جلد نظر آ رہی تھی اور اس کی ایک آنکھ بھی مکمل طور پر بند تھی۔

مقصودہ نے بتایا کہ میرا داماد رات کو آیا اور اس نے ایک معمولی جھگڑے کی بنا پر مجھ پر تیزاب پھینک دیا۔ وہ چھت توڑ کر آیا کیونکہ ہمارے علاقے میں بجلی نہیں ہے اس لیے ہم اس کو پکڑ بھی نہیں سکے۔ لیکن بعد میں وہ گرفتار ہو گیا اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

پلاسٹک سرجن ڈاکٹر بلال سعید نئی مریضہ کے زخموں کا معائنہ کرنے آئے۔ انھوں نے حالیہ برسوں میں ایسی ہزآروں خواتین کا علاج کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس کام سے تنگ آ گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسے مریضوں کہ کئی مرتبہ آپریشن کرنے پڑتے ہیں۔ ’لیکن ہم جو بھی کر لیں ہم ان کی مسکراہٹ واپس نہیں لا سکتے۔‘ ڈاکٹر سعید نے کہا کہ ’ہماری پوری کوشش کے باوجود کئی خواتین خودکشی کر لیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین کو ان ہی شوہروں اور رشتہ داروں کے پاس لوٹنا پڑتا ہے جو ان کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں بعض اوقات مالی پریشانیوں یا گھریلو ناچاکیوں کی وجہ سے۔

چند بستروں کے فاصلے پر شمع کے بچے اس سے ملنے کے لیے آئے ہوئے ہیں اور اس کے بستر کے گرد جمع ہیں۔

وہ اپنا جھلسا ہوا ہاتھ ان کو پیار کرنے کے لیے بڑھاتی ہے اور سب سے چھوٹےنور کو اپنی چھاتی پرلٹانے کے لیے کہتی ہے۔

شمع ان سے کہتی ہے کہ ماں کے لیے دعا کرنا اور خدا سے کہنا کہ وہ مجھے جلد ہی اچھا کر دے۔

شمع کا شوہر ابھی مفرور ہے۔ اگر وہ پکڑا جائے تو شمع چاہتی ہے کہ اس کے منہ پر بھی تیزاب پھینکا جائے۔ ’میں چاہتی ہوں کہ اسے سخت ترین سزا ملے تاکہ کوئی دوسرا ایسا کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے۔‘

بچے جانے لگتے ہیں تو شمع اپنے آنسوں پر قابو نہیں رکھ سکتی۔ ان کی وجہ سے وہ کوشش کرے گی زندہ رہنے کی۔

لیکن فاخرہ یونس کی طرح اسے بھی انصاف ملنے کی کوئی توقع نہیں۔