اسامہ کی بیواوں کو این او سی کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

القاعدہ کےسابق سربراہ اسامہ بن لادن کی یمنی بیگم کے بھائی ذکریا احمد کا کہنا ہے کہ ان کی سفری دستاویزات تیار ہیں لیکن وزارت داخلہ سے اجازت کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ چند گھنٹوں میں ان کی پاکستان سے روانگی ممکن نہیں لیکن وہ پر امید ہیں کہ چند روز میں پاکستان سے چلے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ان کی پاکستان سے روانگی کے بارے میں مختلف خبریں چلائی جا رہی ہیں۔

لیکن انہوں نے تجویز کیا کہ کوئی ایسا بیان جو وہ خود یا ان کے وکیل عاطف خان اور دوست عبدالرحمٰن جاری نہ کریں تو دوسرے کسی بھی بیان پر یقین نہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ ’نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ‘ یا این او سی جاری کرے گی اور پاکستان کی وزارت خارجہ کو خط لکھے گی کہ وہ سعودی اور یمنی سفارتخانوں سے رجوع کرے۔

ان کے بقول سعودی عرب اور یمن کے سفارتخانے انتظار میں ہیں اور انہیں تاحال حکومتِ پاکستان سے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

اسامہ بن لادن کی تین بیواوں اور سات بچوں کو سزا مکمل کیے دو روز گزر گئے ہیں اور اب حفاظتی تحویل میں ہیں۔

اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے ایک وکیل عاطف خان نے کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی جو بیوی اور بچے یمنی ہیں وہ یمن جائیں گے اور جو سعودی عرب کے باشندے ہیں وہ سعودی عرب جائیں گے۔ لیکن ان کے بقول حکومت سے ’این او سی‘ ملنے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کو دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب شخص اسامہ بن لادن کو دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج نے آپریشن میں ہلاک کیا تھا۔ جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو پاکستانی سیکورٹی حکام نے تحویل میں لیا اور کئی ماہ تک ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔

کچھ ماہ قبل ان کے اہل خانہ پر پاکستان میں غیر قانونی قیام کے الزامات کی بنا پر مقدمہ درج کرکے انہیں پینتالیس روز قید کی سزا سنائی گئی۔ وکیل کے بقول ملزمان میں خواتین اور بچے شامل ہونے کی وجہ سے عدالت نے انہیں نرم سزا سنائی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ اسامہ بن لادن گزشتہ چند برسوں سے اہل خانہ کے ہمراہ خفیہ طور پر پاکستان میں مقیم رہے۔ پہلے وہ ہری پور میں ایک کرائے کے مکان میں رہے جہاں سے ایبٹ آباد کے مکان میں منتقل ہوئے۔

اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور امریکی حملے میں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے اکیس جون سنہ دو ہزار گیارہ کو کمیشن قائم ہوا لیکن اب ایک سال ہونے کو ہے اور تاحال کمیشن اپنا کام مکمل نہیں کرسکا۔

کمیشن کی ترجیحات کے حوالے سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے یہ جاننے کے لیے کمیشن بنایا کہ اسامہ بن لادن پاکستان کیسے آئے؟ لیکن کمیشن ان سے پوچھتا ہے کہ امریکیوں کو ویزے کیسے دیے۔۔ ہم پوچھتے ہیں کہ وہ (اسامہ) کس ویزے پر یہاں آئے۔