نو ایجاد وزارتیں!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قمر زمان کائرہ ایک بار پھر وزیرِ اطلاعات و نشریات مقرر ہوگئے۔

خبر یہ نہیں کہ کفایت شعاری پر زور دینے والی زرداری گیلانی حکومت کی پہلے ہی سے وزنی کابینہ میں مزید پندرہ وزراء اور وزرائے مملکت کا بار بڑھ گیا۔ نہ ہی یہ اطلاع کوئی خبر ہے کہ ان وزراء کو حلف اٹھانے کے پانچ روز بعد اپنے اپنے محکموں کا علم ہوا۔ بلکہ خبر یہ ہے کہ ان پانچ روز کے دوران ایسی نادر وزارتیں ایجاد کی گئیں جن کے بارے میں الاٹیوں کو بھی علم نہیں کہ ان وزراتوں کو سنبھال کر کرنا کیا ہے اور کیسے کرنا ہے۔

مثلاً فردوس عاشق اعوان کو وزارتِ اطلاعات و نشریات سے ہٹا کر نیشنل ریگولیشن اینڈ سروسز کی وزارت تھما دی گئی۔ اس وزارت کا قریب ترین اردو ترجمہ غالباً وزارتِ قومی ضوابط و خدمات ہی ہوگا۔ مگرجھنڈے والی گاڑی کے علاوہ اس وزارت کا مقصد و مطلب کیا ہے؟ یہ راز فردوس عاشق اعوان سمیت ہر شخص سمجھنے کے لیے بے تاب ہے۔ سوائے اطلاعات و نشریات کا قلمدان دوبارہ سنبھالنے والے قمر زمان کائرہ کے۔

اسی طرح سابق وزیرِ خوراک و زراعت نذر محمد گوندل کے لیے بھی ایک نئی وزارت کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ تخلیق کی گئی ہے۔ کیا اس وزارت کا کام سرمائے ( کیپٹل) کا انصرام و ترقی ہو گا یا یہ وزارت دارالحکومت اسلام آباد کے انتظام کو دیکھے گی جہاں پہلے ہی سے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی باون برس سے موثر کام کر رہی ہے۔

نومولود وزارت کا مقصد و مطلب کچھ بھی ہو مگر گوندل صاحب اپنے نئے قلمدان سے خوش نہیں۔ ان سے یہ تبصرہ بھی منسوب کیا جا رہا ہے کہ ایک دیہی پس منظر رکھنے والے سیاستدان کے لیے ایسی وزارت زیادہ موزوں ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے لوگوں کے کام آسکے۔ چنانچہ بہتر یہی ہوتا کہ جب نئی نکور وزارت ہی تخلیق کرنی تھی توگوندل صاحب کی خواہش کی مناسبت سے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت کا نام منسٹری آف کیٹل ڈویلپمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن رکھا جاسکتا تھا۔

ایک اور وزارت کلائمٹ چینج (ماحولیاتی تبدیلی) کے نام سے ایجاد کی گئی ہے اور ایک سابق وزیرِ ٹیکسٹائل فاروق سعید کو یہ نئی وزارت سونپی گئی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ نئی وزارت پہلے سے موجود منسٹری آف انوائرنمنٹ کی جگہ لے گی یا اپنا ماحول خود پیدا کرےگی۔ اور یہ کہ نئی وزارت اردگرد کی آلودگی صاف کرے گی؟ یا پھر گلیشیرز کو تیزی سے پگھلنے نہیں دے گی؟ یا اس وزارت کا مقصد محض نئے وزیر کے لیے ماحول کی تبدیلی ہے؟

اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں خوراک و زراعت کے امور صوبوں کے حوالے ہوگئے ہیں مگر وفاق میں پرانی وزارت ِ خوارک و زراعت کے ملبے پر ایک اور وزارت فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے نام سے تخلیق ہوئی ہے جس کے نگراں وزیرِ مملکت معظم علی جتوئی ہیں۔ مگر اس وزارت کے دائرے کا تعین بھی فوڈ فار تھاٹ کے دائرے میں شامل ہے۔ کیا یہ وزارت فوڈ سکیورٹی فراہم کرے گی یا اس بارے میں ریسرچ کرے گی کہ فوڈ سکیورٹی کیسے فراہم ہوتی ہے؟

صمصام بخاری گزشتہ سے پیوستہ کابینہ میں وزیرِ مملکت برائے اطلاعات اور نواب آف کالاباغ کے پوتے ملک عماد خان وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ انہیں گزشتہ کابینہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا اور اب کیوں پرانے عہدوں پر ہی بحال کردیا گیا ہے؟

جن دیگر وزارتوں میں چہرے تبدیل ہوئے ہیں ان میں نہ تو وزارتیں نئی ہیں نہ چہرے۔ مثلاً سائیں مولا بخش چانڈیو کے پاس پہلے وزارتِ قانون و سیاسی امور تھی۔ اب قانون کسی اور کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ جبکہ وزارتِ پانی و بجلی کی وزارت تسنیم احمد قریشی کو دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ غالباً قریشی صاحب کی سابقہ پرفارمنس کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ جب وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے سادہ کاغذ پر ممنوعہ بور اسلحے کے ہزاروں لائسنس جاری کیے اور پھر فائلیں بھی فائر ہوگئیں۔

جبکہ وزارتِ پانی و بجلی کے رینٹل پاور فیم سابق وزیر راجہ پرویز اشرف کو اگرچہ سپریم کورٹ نے معاملات کا ڈھیلا قرار دے دیا لیکن یہ کسر حکومت نے راجہ صاحب کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رسیلی وزارت دے کر پوری کردی۔ پانی و بجلی کی وزارت کی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کا بجٹ بھی اربوں میں ہے۔ اگرچہ راجہ صاحب کے حاسد ان کی ترقی پر جو تبصرے کررہے ہیں ان میں بلے، دودھ اور رکھوالی جیسے الفاظ بھی شامل ہیں مگر ایسے ذاتی نوعیت کے تبصرے مناسب نہیں ہیں۔

تبصرہ نگار یہ مت بھولیں کہ سپریم کورٹ ایک در بند کرتا ہے تو سو در اور کھل جاتے ہیں۔ بس بندے کی نیت صاف ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں