تیزاب پھینک کر قتل کرنے والے کو سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی تیزاب پھیکنے کے مقدمے میں یہ پہلی بار ہے کہ ملزم کو سزائے موت دی گئی ہے۔

راولپنڈی کی ایک عدالت نے ایک عورت کو تیزاب پھینک کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں ایک ملزم کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے جبکہ مقدمے کے دیگر دو ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا گیا ہے۔

ملزم محمد آصف پر الزام تھا کہ انہوں نے چار جون سنہ دو ہزار نو کو راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار کی حدود میں مسماۃ گلناز پر تیزاب پھینکا تھا جس سے وہ بری طرح جھلس گئیں اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئیں۔

وکیلِ استغاثہ کے مطابق ملزم نے حملہ صرف اس لیے کیا تھا کہ گلناز نے اس سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

راولپنڈی کے ایڈیشنل سیشن جج نوید اقبال کی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد آصف کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ اسکے ساتھی ملزمان ابرار احمد اور عبدالوحید کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق تیزاب پھینکنے کے کسی مقدمے میں ملزم کو سزائے موت دیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں