فائرنگ سے ہزارہ قبیلے کے مزید دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں ہزارہ قبیلے کے دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کو نامعلوم مسلح افراد نے بروری روڈ پرموٹرسائیکل سواروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کے چند منٹ بعد نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اے ون سٹی کے قریب جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی رہنماء محمد علی ہزارہ کی گاڑی پر فائرنگ کی جب وہ گھر سے شہر کی طرف آ رہے تھے۔ فائرنگ سے وہ شدید زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کوئٹہ منتقل کردیاگیا جہاں ڈاکٹروں نے انکی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔

ان دونوں واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔ فائرنگ کے بعد پولیس نے شہرکی ناکہ بندی کر دی اور دو مشکوک افراد کو ریلوے کالونی سے گرفتار کیا ہے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات میں ابھی تک اٹھائیس افراد ہلاک جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ انتیس مارچ کو شروع ہوا تھا۔

ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت نے کوئٹہ شہر میں فرنٹیئرر کور کے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اور غیر رجسٹرڈ (کابلی ) گاڑیوں اور کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جس کے باعث کابلی گاڑیاں استعمال کرنے والوں نے پولیس سے بچنے کے لیے اپنی گاڑیوں پر بڑے اور واضع الفاظ میں (پریس) لکھنا شروع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت پچاس ہزار سے زیادہ گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے اکثر واقعات میں یہی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں