بدقسمت طیارے کے مسافروں کی کہانیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ جنہیں زندگی نے مہلت نہ دی

راولپنڈی کے ہوائی حادثے نے کسی کو بھائی اور والد تو کسی کو پورے خاندان سے محروم کردیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں بھوجا ایئر کے انسٹرکٹر حماد لائق اور ان کی والدہ طاہرہ لائق بھی سوار تھیں۔ ایئرپورٹ پر موجود حماد کے کزن نے بتایا کہ ان کی خالہ طاہرہ اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے جارہی تھیں اور وہ عارضہ قلب میں مبتلا رہتی تھیں۔ اس لیے ایک ماہ کی دوائیں بھی ساتھ لیکر گئی تھیں۔

حماد تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اور تین ماہ قبل انہوں نے بھوجا ایئر میں ملازمت اختیار کی تھی۔

ایئرپورٹ پر موجود شہزاد نامی شخص نے بتایا کہ اس طیارے میں ان کے بھائی فاروق، ان کی بیوی اور چھ بچے بھی سوار تھے۔ فاروق کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی تھے۔ ملیر کے ایک اور رہائشی سید سجاد رضوی اور ان کی نوبہتا بیگم بھی مسافروں میں شامل تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق ان کی بیس روز قبل شادی ہوئی تھی اور وہ ہنی مون منانے کے لیے اسلام آباد گئے تھے۔

خیرپور اور نوشہرو فیرز ضلعے کے دو خاندان بھی اس حادثے کا شکار ہوگئے ہیں۔ مسمات حمیدہ ان کی بیٹی صدف اور شازیہ امریکی ویزے کے لیے اسلام آباد انٹرویو کے لیے جا رہی تھیں۔ کچھ عرصہ قبل مسمات حمیدہ کا بیٹا فراز شر کراچی میں نامعلوم افراد کی گولی کا شکار ہوگیا تھا۔ ان کا دوسرا بیٹا امریکہ میں مقیم ہے اور وہ ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

دولتپور کے رہائشی عرفان علی، ان کی بیگم مسرت شاہین اور ڈیڑھ سال کا بیٹا ریحان چودہ اپریل کو ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے جہاں سے وہ اپنے گھر اسلام آباد جانا چاہتے تھے۔

عرفان انجنیئر تھے اور ان کی بیگم مسرت شاہین پاکستان ایئر فورس میں افسر تھیں۔ ان کی تین سال قبل شادی ہوئی تھی۔

گلشن حدید کے گڈز ٹرانسپورٹر تنویر اور ان کی بیگم صدف تنویر بھی اس طیارے میں حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔

بھوجا ایئر لائین کے اس طیارے میں کراچی کے جامعہ بنوریہ کے ناظم تعلیم مولانا عطا الرحمان اور مولانا عثمان بھی سوار تھے۔ مولانا عطا الرحمان اپنے گاؤں مردان جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

حیدرآباد کے اسٹیشن کمانڈنگ افسر ملک جاوید اختر اور ان کی بیگم عابدہ جاوید بھی اس جہاز میں سوار تھے۔ ڈیڑھ سال پاکستان رینجرز میں تعیناتی کے بعد حیدرآباد میں بطور سپیشل کمانڈر تعینات ہوئے تھے۔ ان کا تعلق چکوال سے تھا۔

بدین کے عباس علی اپنے بیٹے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ دیکھنے کے لیے اسلام آباد جانے کے لیے نکلے تھے۔ ان کا بیٹا پاکستان فوج میں سیکنڈ لیفیٹننٹ بھرتی ہوا تھا اور حال ہی میں اس کی تربیت پوری ہوئی تھی۔ عباس علی بدین میں تجارت کرتے تھے۔

حیدرآباد کے نوجوان مجتبیٰ سیال تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں تھے۔ اسی تلاش میں وہ اسلام آباد جا رہے تھے کہ حادثے کا شکار ہوگئے۔

بھوجا ایئرلائن کی فضائی میزبان غزالہ ملک نے حال ہی میں یہ ملازمت اختیار کی تھی۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل لینڈنگ کے دوران طیارے کے دو ٹائر پھٹ گئے تھے جس کے بعد ان کی بیٹی نے کہا تھا کہ وہ یہ ملازمت چھوڑ دیں گی مگر اس فیصلے پر عمل کے لیے زندگی نے انہیں مہلت ہی نہیں دی۔

ڈاکٹر قادر ابڑو کا تعلق دادو کے علاقے خیرپور ناتھن شاہ سے تھا۔ وہ ایف سی پی ایس کی وائے واز دینے کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے۔ قوم پرست خیالات کے حامل ڈاکٹر قادر کراچی کے ایک نجی ہپستال میں کام کرتے تھے اور اخبارات میں کبھی کبھار لکھتے بھی رہتے تھے۔ زندگی میں کوئی مقام بنانے کی جستجو میں وہ شادی نہیں کر سکے تھے۔

اس حادثے میں ایک اور ڈاکٹر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اسداللہ منگریو لیاری ہسپتال کے نفسیاتی شعبے کے انچارج تھے اور ان کا تعلق شکارپور سے تھا۔

سونی گل لوہانہ کراچی میں ایک نجی بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ اس نوجوان کا تعلق میرپور خاص سے تھا۔ مسمات زہراں زوجہ مرید دایو بھی ہلاک ہونے والوں مںی شامل ہیں۔ ان کا تعلق جیکب آباد کے شہر ٹھل سے تھا وہ اپنے بیٹے سے ملنے کی خواہش لے کر اسلام آباد روانہ ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں