’ہوائی جہاز پر تو اعتبار ہی نہیں رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹرین کے مسافروں کی تعداد میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان میں نجی فضائی کمپنی بھوجا ایئر کے طیارے کی تباہی نے عام مسافروں کے دلوں میں ہوائی سفر کے بارے میں ایک خوف سا پیدا کر دیا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب جہاز پر سفر کی جگہ سڑک اور ٹرین کو ترجیح دینے لگی ہے۔

پاکستان میں محکمۂ ریل کی ابتر انتظامی اور پتلی معاشی حالت کے باوجود ہوائی سفر سے خوفزدہ مسافر لاہور اور کراچی کا درمیانی سفر ٹرین پر کرنے پر مجبور ہیں۔

لاہور میں نجی انتظام کے تحت چلنے والی بزنس ٹرین کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی ٹرین کے مسافروں کی تعداد میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لاہور ہی کے ایک بس ٹرمینل پر موجود مسافروں کا کہنا تھا ہے کہ اگر انہیں ہوائی جہاز سفر کا مفت ٹکٹ بھی ملے تو تب بھی وہ بس کے سفر کو ترجیح دیں گے۔

لاہور سے پشاور جانے والے اسد علی نے کہا کہ ’اب تو جہاز کے نام سے بھی خوف آنا شروع ہوگیا ہے۔لوگ اب سڑک کا سفر ہی کریں گے ہوائی جہاز پر تو اعتبار ہی نہیں رہا‘۔

سیالکوٹ کی بس کے انتظار میں بیٹھے مقصود احمد نے کہا کہ ’ایسے جہاز پر میں تو سفر نہیں کرتا۔ دنیا جہان کے ناکارہ جہاز لا کر پاکستان کی ایئر لائنز میں شامل کیے ہیں۔ان میں سفر کرنے سے تو نہ سفر کرنا ہی بہتر ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ان جہازوں کا کیا پتہ کراچی سے نکلیں تو کہیں اور جاگریں میں تو ان میں کبھی بھی سفر نہیں کروں گا‘۔

تاہم وہ لوگ جو اب بھی ہوائی سفر کر رہے ہیں ان میں سے بھی متعدد اس کے لیے قومی ایئر لائن پی آئی اے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن یعنی پی آئی اے کے جنرل منیجر پبلک افیئرز سید سلطان حسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے پر روزانہ سولہ ہزار افراد اندرون و بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور نجی ایئر لائن کے حادثے کے بعد پی آئی اے کے مسافروں میں اضافہ ہوا ہے اور مسافروں کی ایک بڑی تعداد نے دیگر ایئر لائنز کے ٹکٹ منسوخ کرا کے پی آئی اے کو ترجیح دی ہے۔

ان کے بقول اس کی وجہ لوگوں کا پی آئی اے کے حفاظتی اقدامات پر اعتماد ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کےمطابق ہوائی جہاز کے حالیہ حادثے کی وجہ سے ان مسافروں کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے جو لیٹ ٹرینوں اور غیر مفوظ سڑک کی سفری مشکلات سے بچنے کے لیے پہلے تو ہوائی سفر کرتے تھے لیکن ہوائی سفر کے خوف نے ان کے پاس بس اور ٹرین کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔