’ہمارے رشتہ داروں کو رہاکردیں‘

لاپتہ افراد کے لواحقین کی ریلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طالبان نے ان اہلکاروں کی رہائی کے عوض تیس کروڑ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا

طالبان کے ہاتھوں چار ماہ قبل بلوچستان سے اغواء ہونے والے پانچ افراد کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان انکے رشتہ داروں کو رہا کر دیں۔کیونکہ انکے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ طالبان کے تیس کروڑ روپے کامطالبہ پورا کرسکیں۔

یہ اعلان کسی سیاسی جلسے کے لیے نہیں بلکہ غیرسرکاری تنظیم بلوچستان رولرسپورٹ پرواگرام یا بی آر ایس پی کے ان پانچ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے لگائےگئے کیمپ سے ہو رہا ہے ۔

طالبان کے شاہین نامی گروپ نے ضلع پشین کے علاقے برشور سے گزشتہ سال تیرہ دسمبر کو طالبان نے عوام کو تعلیم و صحت اور پینے کے پانی کی فراہمی سمیت مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ’بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام‘ کے چھ اہلکاروں سید مجیب الرحمان ، مقبول احمد، بشیراحمد، آفتاب احمد ، بور محمد کاکڑ اور عبدالغفور کو اغوا کر لیا تھا اور ان کی رہائی کے بدلے تیس کروڑ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن لواحقین کا کہنا ہے کہ انکے پاس اتنی رقم نہیں ہے جس کے باعث وہ چندہ جمع کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔اس بارے میں سید نجیب اللہ کے چچاسید اکرم آغا نے بتایاکہ انہوں نے ہر دروازہ کھٹکٹایا لیکن کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔

ان لواحقین کے مطابق طالبان سیٹلائٹ فون میں بیلنس کے لیے ہر ماہ پانچ سے دس ہزار روپے طلب کرتے ہیں لیکن انکے پاس توبیلنس کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔

ان لواحقین نے طالبان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ انکے رشتہ داروں کو رہاکردیں۔ دوسری جانب بلوچستان رولرسپورٹ پرواگرام کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ صوبائی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ مغوی پانچ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے محدود وسائل کےتحت طالبان کا مطالبہ پورا کیا جا سکے۔

اسی بارے میں