بنوں: قیدیوں اورجیل کےعملے کے بیانات قلمبند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دس دن پہلے مسلح طالبان نے بنوں جیل پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے تین سو چوراسی کے قریب قیدیوں کو بغیر کسی مزاحمت کے رہا کروا لیا تھا۔

سینٹرل جیل بنوں کے واقعے کی تحقیقات کےلیے قائم شدہ انکوائری کمیٹی نے دوسرے روز بھی قیدیوں اور جیل کے عملے کے بیانات قلمبند کیے اور اس واقعے کے حوالے سے مقامی لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی۔

بنوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی کی قائم کی گئی چار رکنی اعلی سطحی انکوائری کمیٹی کے اراکین نے منگل کو دوسرے روز بھی جیل کے عملے، پولیس اہلکاروں اور قیدیوں سے پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات قلمبند کرائے۔

بنوں کے ضلعی پولیس سربراہ وقار احمد نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اروکزئی کو بتایا کہ انکوائری کمیٹی کے ممبران گزشتہ دو دنوں سے بنوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ انکوائری کمیٹی کل تک اس واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی گی جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کو انکوائری رپورٹ پیش کی جائیگی۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے جیل کے واقعے کے حوالے سے عام لوگوں کے بیانات بھی قلمبند کرائے ہیں۔ انکوائری کمیٹی چار افسران پر مشتمل ہے، جس میں ایڈیشنل آئی جی پولیس مسعود خان، مشتاق جدون، ڈاکٹر احسان الحق اور عالمگیر شاہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دس دن پہلے مسلح طالبان نے بنوں جیل پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے تین سو چوراسی کے قریب قیدیوں کو بغیر کسی مزاحمت کے رہا کروا لیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ رہا ہونے والے قیدیوں میں بعض اہم شدت پسند کمانڈر اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث ایک ملزم عدنان رشید بھی شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی نے بنوں جیل کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات، کمشنر بنوں، ڈی آئی جی بنوں اور اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ جیل کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں