حقانی کی ویڈیو لنک کے ذریعے بیان کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انصاف کا تقاضا ہے کہ جس طرح منصور اعجاز کا بیان بیرون ملک ریکارڈ ہوا اُسی طرح اُس کے موکل کو بھی یہ حق دیا جائے:عاصمہ جہانگیر

سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی بیرون ملک ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

عدالت عظمی کا کہنا ہے کہ میمو کی تحقیقات کرنے والا کمیشن آزاد ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک اس کمیشن کے امور میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کمیشن تعصب سے پاک ہوکر اس میمو کی آزادانہ تحقیقات جاری رکھے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم ہونے والے تین رکنی عدالتی کمیشن نے چھبیس اپریل کو امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو بیان ریکارڈ کروانے اور اُن کے زیرِ استعمال بلیک بیری موبائل فون بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو کہا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے حسین حقانی کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی تو درخواست گُزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کی جان کو خطرہ ہے۔

عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو خطرہ کس سے ہے جس پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ اُنہیں شدت پسندوں اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے خطرہ ہے۔ اُنہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ حسین حقانی کو ٹارگٹ کلنگ میں اگر نہ مارا گیا تو کسی ٹریفک حادثے میں مار دیا جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن ان کے موکل کے لیے بھی اُسی طرح کی حفاظت کے اقدامات کرنے کے احکامات جاری کرے جو اُنہوں نے منصور اعجاز کے ممکنہ طور پر پاکستان آنے سے متعلق جاری کیے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے اُن کے موکل کی پاکستان میں جائیداد اور بطور سفیر خفیہ فنڈز سے رقم کے استعمال کی تفصیلات طلب کی ہیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کمیشن کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حسین حقانی عدالت میں بیان حلفی دیکر بیرون ملک گئے تھے کہ وہ چار دن کے نوٹس پر عدالت یا کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری کرنی چاہیے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ جس طرح منصور اعجاز کا بیان بیرون ملک ریکارڈ ہوا ہے اُسی طرح اُس کے موکل کو بھی یہ حق دیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل کے خلاف اس مقدمے میں کچھ بھی نہیں ہے لیکن اُنہیں (حسین حقانی) کو پھنسانے کے لیے جال بچھایا جا رہا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار نے عاصمہ جہانگیر سے استفسار کیا کہ اگر اُن کے موکل عدالت میں بیان حلفی نہ دیا ہوتا اور وہ ملک میں ہی رہتے اور اُنہیں دھمکیاں مل رہی ہوتیں تو پھر حسین حقانی کیا کرتے جس پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ گھٹ گھٹ کر مرجاتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حسین حقانی جب پاکستان میں تھے تو وہ اپنے ساتھ کمانڈوز بھی رکھتے تھے جس پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ تفریح کے لیے کمانڈوز نہیں رکھتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حسین حقانی پاکستانی ہے اور ملک کی شناخت کی وجہ سے اُنہیں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حسین حقانی کو عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے وطن واپس آنا چاہیے۔

اسی بارے میں