جائے حادثہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھوجا ائیرلائن کے مسافر طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد اسلام آباد کا نواحی گاؤں حسین آباد لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں مرد، عورتیں اور بچے اس گاؤں آ رہے ہیں جہاں گزشتہ ہفتے جمعہ کو بھوجا ائیر کے جہاز کا حادثہ پیش آیا تھا۔

لیکن یہاں لوگ کیوں اور کیا سوچ کر آ رہے ہیں؟

سیعد الرحمان نے، جو سات عزیزوں اور ساتھیوں کے ہمراہ خیبر پختونخواہ کے علاقے حضرو سے تین گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد جائے حادثہ پر پہنچے، کا کہنا ہے ’دل دکھ رہا تھا اس لیے سوچا کہ خود جاکر دیکھیں کہ وہاں کیا ہوا۔ کام تو ہمیں بہت ہیں مگر کیا کریں رہا نہیں گیا اور دیکھنے کے لیے آگئے۔‘

سیعد الرحمان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ تباہی کا منظر دیکھ کر ان کا دل پریشان ہے۔

اسی طرح یہاں آنے والوں میں طلبا بھی شامل ہیں۔ بحریہ یونیورسٹی کے طالب علم فخر بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس مقام پر آئے۔

فخر نے کہا ’دو دن پہلے میں نے سنا تھا کہ جہاز تباہ ہوگیا اور کافی لوگ ہلاک ہوگئے۔ ہم یہی دیکھنے آئے ہیں کہ یہاں کیا حالات ہیں، کیا ہوا اور کس طرح سے ہوا۔ شاید ہمیں کچھ معلومات مل جائیں۔ یہ بہت ہولناک واقعہ ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

یہاں آنے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

اگرچہ پاکستانی ٹی وی چینلز پر یہ واقعہ براہ راست نشر کیا جا رہا ہے لیکن بعضٰ لوگ ذاتی طور پر موقعے پر پہنچ کر تباہی کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں پی ڈبلیو ڈی کالونی کی رہائشی مسز جاوید کہتی ہیں کہ وہ یہ دیکھنے آئی ہیں کہ آیا میڈیا جو بتا رہا ہے وہ صحیع بتا رہا ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاید ہمیں کچھ معلومات مل جائیں۔ یہ بہت ہولناک واقعہ ہے۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا: فخر

’ہم پہلے اس لیے نہیں آئے کہ میڈیا یہ کہہ رہا تھا کہ لوگوں کے آنے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اسی لیے ہم دو تین دن کے بعد آئے کہ اب تو یہاں صورتحال بہتر ہوگئی ہو گی اور اب ہم جاکر دیکھیں کہ کیا صورت حال اور جو میڈیا نے بتایا وہ درست ہے یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بچے یہ سانحہ دیکھنا چاہتے تھے اس لیے وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئیں۔

’یہ( بچے) اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے کہ جب ( طیارہ) کریش ہوتا ہے تو اس کے بعد کیا صورت حال ہوتی ہے۔‘

مسز جاوید کا کہنا ہے کہ یہ تباہی دیکھ کر بچوں پر نفسیانی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

’میرے خیال میں اس سے بچوں پر نفسیاتی اثرنہیں پڑنا چاہیے کیوں کہ دنیا میں ایسے حادثات کی شرح زیادہ نہیں۔ ہاں البتہ( ایسے حادثات کی ) شرح پاکستان میں دیگر ممالک سے نسبتاً زیادہ ہے۔‘

مسز جاوید کی بیٹی آمنہ، جو آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں نے بتایا ’ہم یہاں یہ دیکھنے آئے ہیں جو لوگ جہاز میں سوار تھے ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ ان کو کس صورت حال کا سامنا رہا ہوگا۔ انہوں نے ساری صورت حال کو کیسے نمٹنے کی کوشش کی ہوگی۔ جب موت ان کے اتنے قریب تھی تو انہوں نے کس طرح سے اس کا سامنا کیا ہوگا کہ موت ان کے بالکل آنکھوں کے سامنے ہے۔‘

آمنہ بہت پریشان اور خوفزدہ لگ رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آمنہ بہت پریشان اور خوفزدہ لگ رہی تھیں

’بہت برے حالات ہیں، ادھر بھی ملبہ ہے، ادھر بھی ملبہ ہے، پتہ نہیں ان بچاروں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ دل میں انتہا کا خوف ہے۔ اس وقت اللہ یاد آ رہا ہے! موت کہیں بھی کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے اور اس کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔‘

لاہور سے آنے والے سرفراز قمر بٹ کہتے ہیں ’میں یہی سوچ کر آیا کہ وہ مقام دیکھوں جہاں یہ جہاز ٹکرایا اور (معلوم کرنے کی کوشش کروں) یہ کیسے کریش ہوا اور مقامی لوگوں کی کیا رائے ہے۔ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہر ایک کو اس قسم کے حادثے سے محفوظ رکھے۔‘

لیکن بعض مقامی لوگوں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ باہر سے آنے والے لوگ جائے حادثہ پر دعایہ کلمات کہے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔

مقامی رہائشی بابر خان نےجو پاکستان ائر فورس میں ملازم ہیں کا کہنا تھا ’کچھ لوگ دکھ کی وجہ سے آ رہے ہیں مگر زیادہ تر لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ یہاں آنے والوں کو چاہیے کہ وہ (مرنے والوں کے ثواب کے لیے) فاتح پڑھیں مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا۔‘

’میری یہی گزارش اور پیغام ہے کہ یہاں جو بھی آئے وہ سب سے پہلے فاتحہ پڑھے۔ اس میں صرف ایک منٹ لگتا ہے۔‘

اس واقعے کے بعد اب بعض حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا عام لوگوں کو ایسے مقامات پر جانے کی اجازت ہونے چاہیے یا نہیں۔

اسی بارے میں