گلوکار منظور کی موت خودکشی یاقتل؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مقبول عوامی گلوکار ماسٹر منظور کی موت کو اڑتالیس گھنٹے ہوچکے ہیں لیکن تاحال پولیس یہ معمہ حل نہیں کرسکی کہ ان کی موت خودکشی تھی یا قتل۔

صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ماسٹر منظور اپنے گھر میں خون میں لت پت پائے گئے تھے۔

ان کے پانچوں بچے ان کے پر ملے تھے جبکہ ان کا چھوٹا بچہ ان کے ہمراہ ہی سو رہا تھا جو فائرنگ کی آواز پر جاگ پڑا تھا۔ ان کے سرہانے پستول بھی ملا ہے۔

بیالیس سالہ ماسٹر منظور کا تعلق سابقہ ضلع لاڑکانہ اور موجودہ ضلعے قمبر شہداد کوٹ کے ایک گاؤں سے تھا۔ ان کے والد مکھنو فقیر اور چچا مور فقیر بھی گائیک تھے اور اس اعتبار سے موسیقی انہیں ورثے میں ملی۔

لیکن سندھی موسیقی کے ایک نقاد اور صحافی ناز سہتو کا کہنا ہے کہ ماسٹر منظور نے باضابطہ گائیکی گریجویشن کے بعد انیس سو ستانوے میں شروع کی تھی۔

ان کے بقول وہ کراچی سے حیدرآباد منتقل ہوئے اور انہیں شہرت ‘اکھ پریں جی اھڑی نہارے تہ مارے’ یعنی ‘محبوب کی آنکھ ایسی کہ اگر دیکھے تو مارڈالے’ کے گانے سے ملی۔

ماسٹر منظورگائیکی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کا شو روم بھی چلا رہے تھے۔ انہیں جتنے کم عرصے میں بہت زیادہ شہرت ملی وہ ان کے کئی ہم عصروں کو دہائیوں میں بھی نصیب نہیں ہوتی۔ آخری بار انہوں نے جو البم ریکارڈ کرایا، اس کا دس لاکھ روپے معاوضہ لیا تھا۔

سندھی موسیقی پرگہری نظر رکھنے والے ناز سہتو کہتے ہیں کہ سندھ میں سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں مسلسل دو برس سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد ‘کیسٹ کمپنیوں’ کے کروڑوں روپے ڈوب گئے اور گزشتہ ڈھائی برسوں سے سندھ میں جہاں میوزک انڈسٹری متاثر ہوئی ہے وہاں گلوکار بھی پریشان ہیں۔

ناز سہتو کے بقول ماسٹر منظور کا شمار سندھ کے پانچ بڑے مقبول عوامی گلوکاروں میں ہوتا ہے اور ان کے گانے میں ورائٹی بہت تھی۔ وہ شادیوں میں گانے والے گیت نئے انداز میں گاتے تھے۔ وہ جب سٹیج پر براہ راست پرفارمنس دینے آتے تو ان کے چاہنے والے جھوم اٹھتے تھے۔

ماسٹر منظور کی بیگم ان سے ناراض ہوکر میکے چلی گئیں تھیں اور خود کشی سے کچھ گھنٹے قبل وہ انہیں منانےگئے تھے لیکن وہ گھر نہیں آئیں۔ ابتدائی طور پر تو ماسٹر منظور کی خودکشی پر ان کے اہل خانہ اور پولیس میں ہم خیالی ہے لیکن پولیس ابھی پوچھ گچھ کر رہی ہے اور حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

ماسٹر منظور سے قربت رکھنے والے ناز سہتو کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ جاننا ہے کہ انہوں نے خود کشی کیوں کی؟ ان کے بقول اس کا پس منظر جاننے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

سادہ اور ہنس مُکھ طبیعت والے سندھ کے مقبول عوامی گلوکار ماسٹر منظور تو بچھڑگئے لیکن ان کے گائے ہوئے سینکڑوں گیت ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

اسی بارے میں