بھوجا حادثے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں بدھ کی شام بھوجا ایئر لائن کے تباہ ہونے والے طیارے کی جانچ کے معاملے پر حکومت اور حزب مخالف کے درمیاں اختلافات اور الزامات کی وجہ سے تلخی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن نے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان اور وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ایک دوسرے پر بھوجا ایئر کی جانچ کے معاملے کو متنازعہ بنانے اور سیاست کرنے کے الزامات عائد کیے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایک موقع پر سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے وزیراطلاعات سے کہا کہ سینیئرز کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ جس پر وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ میڈم سپیکر درست ہے لیکن ایوان میں بیٹھے تمام اراکین محترم ہیں اور سینیئرز کو احترام کروانا ہے تو دوسرا کا احترام کرنا ہوگا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس حسب معمول تاخیر سے شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے بعد بیس اپریل کو راولپنڈی میں بھوجا ایئر کے تباہ ہونے والے طیارے کے حادثے پر بحث کے لیے قوائد معطل کرکے بحث کی قرارداد پیش کی گئی۔

جس پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بحث حکومتی قرارداد پر نہیں بلکہ حزب مخالف کی تحریک التویٰ پر ہونی چاہیے۔ جس پر سپیکر نے وضاحت کی کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ قوائد معطل کرکے بحث کرنے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے حکومت پر تنقید کی کہ پرویز مشرف کے دور میں جاری کردہ عبوری آئینی حکم یعنی ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھانے والے دو جج جو فارغ ہوئے ہیں انہیں اور ایک متنازعہ ریٹائرڈ پولیس افسر پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُسے عدالتی کمیشن نہیں کہا جاسکتا اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کچھ چھپانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور نجی کمپنی ایئر بلیو کا طیارہ بھی تباہ ہوا اور ڈیڑھ سال ہونے کے باوجود بھی اس کی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ مسخرے وزراء تنقید کرتے ہیں کہ ایئر بلیو مسلم لیگ والوں کی ہے۔

ان کے بقول ایئر بلیو کے چیف ایگزیکٹو کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے لیکن اس کے اکثریتی حصہ دار غیر ملکی ہیں۔

ان کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتی اور انہوں نے فوری طور پر تکنیکی تحقیقات کا حکم دیا۔ ان کے بقول یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ حکومت نے بارہ گھنٹے سے بھی کم وقت میں تمام لاشیں ورثاء کے حوالے کردیں اور امدادی کام موثر رہا۔

انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر سیاست نہ کریں اور یکجہتی کی بات کریں تاکہ لواحقین کی دل آزاری نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لواحقین سے ملنے پمز ہسپتال گئے اور ان کے مطالبے پر انہوں نے عدالتی کمیشن بنانے کی وزیر داخلہ کو ہدایت کی۔

اس موقع پر وفاقی وزیِر قانون فاروق نائیک نے متعلقہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت حکومت کو ریٹایرڈ ججوں پر مشتمل کمیشن بنانے کا اختیار ہے اور اس میں لکھا ہے کہ اس کی کارروائی عدالتی کمیشن کی کارروائی کہلائے گی۔ ان کے بقول کمیشن میں شامل دونوں ججوں کا ماضی بطور جج شاندار رہا ہے اور کسی نے ان پر انگلیاں نہیں اٹھائیں۔ تاہم ان کے بقول جہاں تک ’ پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھانےکی بات ہے تو کوئی جج ایسا نہیں جس نے کبھی نہ کبھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے۔

جس پر چوہدری نثار علی خان نے اعتراض کیا کہ جن ’پی سی او‘ ججوں کو وزیر قانون پاکباز کہتے ہیں وہ ان کی کھال ادھیڑ سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے بقول دونوں ریٹائرڈ جج ( زاہد حسین بخاری اور نسیم سکندر) کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چلی اور انہوں نے معافی مانگی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اتفاق رائے سے تحقیقاتی کمیشن بنائیں ورنہ وہ بحث میں حصہ نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں غلط کام کی وکالت کرتے ہیں۔

ان کا جواب دیتے ہوئے قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ ایئربلیو حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ شہری ہوا بازی کے ادارے کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور میڈیا میں شائع ہوچکی ہے۔ ان کے بقول اگر معزز رکن ایئر بلیو کے سربراہ (شاہد خاقان عباسی) کو ہتھکڑی لگوانا چاہتے ہیں تو انہیں اعتراض نہیں۔

انہوں نے چوہدری نثار علی خان پر تنقید کی تو مسلم لیگ (ن) والوں نے احتجاج کیا اور ایوان سے باہر چلے گئے۔ اجلاس کی کارروائی جمعرات کی شام پانچ بجے تک ملتوی کی گئی۔

قبل ازیں متحدہ قومی موومینٹ کے فاروق ستار نے کہا کہ نجی ایئر لائنز موسم خراب ہونے کے باوجود تیل بچانے کے چکر میں مسافروں کی زندگی داؤ پر لگاتی ہیں۔ ان کے بقول اگر ریگولیٹر سول ایوی ایشن خود ہی تحقیقات کرے گی تو انصاف کیسے ہوگا؟۔ انہوں نے متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں