’رپورٹ یادداشتوں پر مبنی، قابل سماعت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس درخواست کی سماعت دس مئی تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی

سپریم کورٹ نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ رقوم کی تقسیم کے معاملے میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ مسترد کر دی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ اُس وقت کے ڈائریکٹر ایف آئی اے اور موجودہ وزیر داخلہ رحمان ملک کی یادداشتوں پر مبنی ہے جو کہ قانون کے مطابق قابل قبول نہیں ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو کہا ہے کہ آئی ایس آئی کی طرف سے مہران بینک اور حبیب بینک سے رقم نکلوانے کے معاملے پر کمیشن کی رپورٹ کی گمشدگی کے بارے میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ جب تک کمیشن کی رپورٹ پیش نہیں کی جائے گی اُس وقت تک یہ معاملہ منطقی انجام کو نہیں پہنچے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ مہران بینک اور حبیب بینک جہاں سے چودہ کروڑ روپے کی رقوم نکالی گئی تھیں، اُس کی تحقیقاتی رپورٹ وزارت قانون اور وزارت داخلہ سے نہیں مل رہی جس پر بینچ میں شامل خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ حیرت ہے کہ کمپیوٹررائز دور میں رپورٹس نہیں مل رہی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان کمیشن کی رپورٹ کچھ عام آدمیوں کے پاس تو ہیں لیکن حکومت کے پاس نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ متعلقہ وزارتوں کے حکام کو ہدایات جاری کی گئی ہیں جونہی وہ رپورٹس ملیں تو عدالت میں پیش کر دیں گے۔

عدالت نے نیب کے حکام سے اس معاملے کے اہم کردار اور مہران بینک کے سابق صدر یونس حبیب کے مقدمات کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کو کہا جس میں ایک مقدمے میں یونس حبیب سزا یافتہ ہیں اور دوسری میں پلی بارگین کی ہے، تاہم نیب کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹس بھی تلاش کی جا رہی ہیں۔

اُنہوں نے عدالت میں وزارت داخلہ کی طرف سے اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں اُس وقت کے ڈائریکٹر ایف آئی اے رحمان ملک کی یادداشتوں پر مبنی ایک رپورٹ پیش کی۔

اُس وقت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے کی چھان بین کے لیے تفتشیی افسر مقرر کیا تھا۔ عدالت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق یہ قابل سماعت نہیں ہے۔

درخواست گُزار ائر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اگر کمیشن کی رپورٹ نہیں ملتی تو جو دو فوجی افسران نے اپنے بیان حلفی جمع کروائے ہیں اُن کی حد تک ہی فیصلہ دیا جائے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت کا کیا بنے گا اس لیے اس سارے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں بری فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق اپنے بیان حلفی عدالت میں جمع کروائے ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیح نے کہا کہ اُن کے موکل نے آئی ایس آئی کا سیاسی سیل ختم کرنے کا کہا تھا جس پر بینچ میں شامل جٹسس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں بھی تو فضائیہ کے ایک سابق سربراہ لیکر آئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ معاملہ سیاست دانوں میں نہیں بلکہ فوج کے سابق جرنیلوں کے درمیان ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو بدنام نہ کیا جائے۔

عدالت نے مرزا اسلم بیگ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے آرمی چیف کو رقوم کی تقسیم کے وقت قانون کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس بات میں بھی فرق کرنا ہوگا کہ سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم انفرادی فعل ہے یا پھر اُس میں کوئی ادارہ ملوث ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ عدالت اُس وقت کے آرمی چیف سے کہے کہ اُنہوں نے ہی رقم دی ہے وہی واپس کریں۔

عدالت نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے وکیل سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر تقسیم کی گئی ایک سو چالیس ملین روپے کی تفصیلات مانگ لی ہیں ۔ اس درخواست کی سماعت دس مئی تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی۔

اسی بارے میں