سزا کے خلاف اپیل کریں گے:اعتزاز احسن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرد جرم دیوانی توہین کے تحت عائد کی گئی اور سزا فوجداری توہین کے تحت دی گئی:اعتزاز احسن

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توہین عدالت کیس میں ملنے والی ’علامتی‘ سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو جس الزام کے تحت سزا دی گئی اس کا ان پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ذکر ہی نہیں تھا۔

اعتزاز احسن نے یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ اور وزیر قانون فاروق ایچ نائک کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والی مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اعتزاز احسن نے عدالتی حکم کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک دن ہے کہ وزیراعظم کو سزا ہوئی ہے۔

ان کے بقول فوجداری مقدمات میں عام طور پر عدالت مختصر حکم نہیں سناتی بلکہ تفصیلی فیصلہ سناتی ہے اور حکم کی کاپی ملزم کو دی جاتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکم کی نقل تاحال انہیں فراہم نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پر حکم عدولی کا الزام تھا اور فردِ جرم بھی اس کے تحت ہی عائد ہوئی تھی لیکن ان کے بقول مختصر حکم میں سزا عدالت کی تضحیک کے الزام کے تحت دی گئی ہے۔

انہوں نےتوہین عدالت کے قانون کی شقیں پڑھیں اور بتایا کہ تین نوعیت کے الزامات ہوتے ہیں، ایک فوجداری نوعیت کی توہین دوسری دیوانی اور تیسری عدالتی توہین۔ ان کے بقول فرد جرم دیوانی توہین کے تحت عائد کی گئی اور سزا فوجداری توہین کے تحت دی گئی۔

انہوں نے اس موقع پر یہ شعر بھی پڑھا

’وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کریں گے اور اپیل ٹرائل کا تسلسل ہوتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپیل کے بعد عدالت ماضی کے کچھ کیسز کی طرح سزا معطل کردے گی ۔ ان کے مطابق جب تک اپیل کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا اور قانونی عمل مکمل نہیں ہوتا اس وقت تک اس سزا کو حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جب بھی عدالت اس طرح کا فیصلہ سناتی ہے تو وکیل صفائی فیصلے کی وضاحت چاہتی ہے اور انہوں نے جب ایسا کرنا چاہا تو انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے مختصر حکم میں ابہام ہے اور اس بنا پر ذرائع ابلاغ کے لوگ اپنی اپنی مرضی کی تشریحات کر کے قیاس آرائیاں کر رہے ہیں اور سنسنی پھیلا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ میڈیا کو اس کا حق حاصل ہے۔

اعتزاز احسن سے جب پوچھا گیا کہ کیا اخلاقی طور پر وزیراعظم کو عہدے سے علیحدہ نہیں ہونا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ وہ تو قانون کی بات کر رہے ہیں اور سیاسی فیصلہ انہوں نے نہیں کرنا ہے۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ وزیراعظم اور وہ اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں چھ ماہ کی سزا ہوئی تو وہ اڈیالہ جیل جائیں گے اور پولیس کو گرفتار کرنے سے نہیں روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کی مہربانی ہے کہ انہوں نے بڑی سزا نہیں دی۔

انہوں نے بتایا کہ اپیل دائر کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت ہے اور وہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپیل دائر کریں گے۔ ان کے بقول وہ ایک ہفتے کے لیے تیونس کی حکومت کی دعوت پر وہاں جا رہے ہیں اور وہ انہیں آئین مرتب کرنے کے لیے مشورہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ فرق واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت آئینی اور فوجداری معاملات میں کیسے فیصلے دے رہی ہے۔ ان کے بقول میاں نواز شریف کو پرویز مشرف کا طیارا اغواء کرنے کے جرم میں سزا ملی اور عدالت نے آئین توڑنے جیسے سنگین جرم کو جائز قرار دیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ دس برس بعد جب میاں نواز شریف سعودی عرب سے واپس لوٹے اور اپنی سزا ختم کروانے عدالت گئے تو وہ سزا ختم ہوگئی لیکن ان کے مطابق عدالت این آر او عملدرآمد کیس اور توہین عدالت میں کس طرح سزا دے رہی ہے۔

اعتزاز نے کہا کہ وزیراعظم کو جو سزا ملی وہ انہوں نے بھگت بھی لی اور اب وہ اپیل کریں گے۔ ان کے بقول چھری چاقو تیز کیے بیٹھ لوگوں کو مایوسی ہوئی کہ وزیراعظم کو ہتھکڑی کیوں نہ لگی اور چھ ماہ کی سزا کیوں نہیں ہوئی؟

اس موقع پر وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب میاں نواز شریف کو سزا ملی تو کیا انہوں نے خود کو کبھی مجرم تسلیم کیا؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بدستور کام کرتے رہیں گے اور اپیل کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔

اسی بارے میں