وزیراعظم کی سزا کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملتان میں بھی عدالتی فیصلے کے خلاف اور حق میں الگ الگ مظاہرے کیے گئے ہیں

سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کے خلاف ان کے آبائی شہر ملتان کے علاوہ سندھ کے متعدد شہروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

احتجاج کا سلسلہ سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے فوری بعد شروع ہوا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ کے شہروں میرپور خاص سکھر، نوابشاہ،گھوٹکی، ٹھٹہ، دادو، نوشہرو فیروز، خیرپور اور تھرپارکر میں کاروبار بند ہوگیا ہے اور ٹائروں کو نذر آتش کر کے نعرے بازی کی گئی ہے۔

اُدھر کراچی کے علاقے قائد آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر قومی شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک کو معطل کر دیا۔ لیاری میں بھی فائرنگ کی گئی ہے، جس کے باعث کاروبار بند ہوگیا۔

حیدرآباد میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور کارکنوں نے فیصلے کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا۔

سندھ اسمبلی میں بھی اس فیصلے پر تحفظات سامنے آئے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی تقریروں میں فیصلے پر تنقید کی ہے۔

صوبائی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو آئین کی پیروی کرنے کی سزا دی گئی ہے، مگر پیپلز پارٹی نے آئین کی کل بھی پاسداری کی تھی اور آئندہ بھی کرتی رہےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین میں تمام اداروں کے کردار کا تعین کردیا گیا ہے، اس لیے تمام اداروں کو اس کی پیروی کرنی چاہیے، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پارلیمنٹ بالاتر ہے اور رہےگی۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے نہ کبھی بوٹوں کی سیاست کی ہے اور نہ ہی حمایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے فوری بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا

کراچی میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے دو درجن کارکنوں نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیراعظم کو اس طرح عدالت میں نہیں طلب کیا گیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی سے ہی یہ امتیازی سلوک کیوں برتا جاتا ہے، اس کو کیوں ایک نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔

بقول ان کے یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اسی وزیراعظم نے عدلیہ کو بحال کیا، ان کی رکی ہوئی تنخواہیں ادا کیں، ان کا تعلق اس جماعت سے ہے اس نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جس کا صلہ کیا یہ ہے۔

وزیراعظم گیلانی کے آبائی شہر ملتان کے علاوہ پنجاب کے کچھ شہروں میں بھی عدالتی فیصلے کے خلاف اور حق میں الگ الگ مظاہرے کیے گئے ہیں۔

فیصلہ آنے کے فوراًً بعد وزیراعظم ہاؤس، ملتان پریس کلب اور لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ کے سامنے اور شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

دوسری جانب حیدرآباد میں چار موٹر سائیکل سوار نوجوانوں نے مختلف بازاروں میں ہوائی فائرنگ کی جس کے بعد دوکانداروں نے بازار بند کر دیے۔

حیدرآباد میں قاسم آباد، آٹو بھان روڈ اور گل سینٹر پر دکانوں کو بند کرا دیا گیا جبکہ شہر کے ایک حصے کو دوسرے سے ملانے والے پھلیلی پل پر خواتین اورمردوں نے دھرنا دیا جس کے بعد پولس اور رینجرزنے دھرنا ختم کرانے کے لیے لاٹھی چارج کیا ۔

دریں اثناء سندھ پیپلز سٹوڈینٹس فیڈریشن حیدرآباد کے صدر (سپاف) لالہ رضوان پٹھان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف جمعہ کو حیدرآباد میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

اسی بارے میں