عدالت کے باہر میلہ لگا تھا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر میلے کا سا سماں تھا تاہم اس میں تجسس کی آمیزش بھی تھی۔

وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے توہین عدالت کے مقدمہ میں مجرم قرار پانے کی خبر سنتے ہی سپریم کورٹ کے باہر قطار میں بیھٹی پیلزپارٹی کی درجن سے زائد خواتین کارکنان نے سب سے پہلے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور’ ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘ ، ’گیلانی تیرے جانثار بے ، شمار بےشمار‘ کے نعرے لگائے۔

توہینِ عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیئے جانے والے پہلے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے چہرے کے تاثرات کیمرے میں سمیٹنے کی دوڑ میں مقامی صحافی تمام خاردار تاریں اور رکاوٹیں عبور کرنے کی اپنی پرانی عادت پر اتر آئے۔

سماعت کے بعد وزیرِاعظم گیلانی سپریم کورٹ کے گیٹ سے باہر نکلے اور اپنے چاروں جانب سیکورٹی اہلکاروں اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے شکنجے کے باوجود چہرے پر مخصوص مسکراہٹ لیے صحافیوں کے لیے ہاتھ ہلانے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان کے وزیراعظم کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی سماعت پانچ سے سات منٹ تک جاری رہی جبکہ اس کی کوریج کے لیے بے تاب صحافیوں کی تیاریاں رات گئے سے ہی عروج پر تھیں۔

بعض صحافیوں نے تو رات کو ہی سپریم کورٹ کے باہر لگی سٹیل کی باڑوں میں کیمرے نصب کر دئیے تھے۔ مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں کی بڑی تعداد نے صبح سات بجے ہی عدالت کا گھیراؤ کر لیاتھا۔

وزیرِاعظم اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق شاہراہِ دستور پر قائم پارلیمان کے سامنے اپنی کالی مرسیڈیز کار سے اترے تو وزیرِ داخلہ رحمان ملک، وزیرِخارجہ حنا ربانی کھر اور وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ پرویز اشرف سمیت پارٹی کے دوسرے کارکنوں نے انہیں فوراً گھیرے میں لے لیا۔

سپریم کورٹ پہنچنے کے لیے چند منٹ کا فاصلہ وزیر اعظم نے مجمع سمیت پیدل طے کیا، اس دوران ان پر پھول کی پتیاں نچھاور کی گئیں ۔وزیر اعظم کو ’جیئے بھٹو جیئے بھٹو‘ کے نعروں کی گونج میں کمرۂ عدالت بھیجاگیا۔

وزیر اعظم گیلانی اور ان کے ہمراہ متعدد وزراء کے لیے سپریم کورٹ کا چھوٹا گیٹ کھولا گیا جس کی وجہ سے وزیر اعظم گیلانی کو اندر داخل ہونے کے لیے دھکوں کا سہارا لینا پڑا۔

جمعرات کو ملک کی سب سے اہم عدالتی کارروائی کے موقع پر پولیس اہلکار ماضی کی نسبت منظم نظر آئے جس کی وجہ ایک ہی برس میں وزیرِاعظم گیلانی کی سپریم کورٹ میں تیسری حاضری بھی ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی غیر معمولی نفری کے علاوہ پچیس سے تیس خواتین پولیس اہلکاراور انسدادِ دہشت گرد سکواڈ بھی شامل تھا جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے وزیر برائے سیاسی امور مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ گیلانی آج بھی وزیرِ اعظم ہیں اور کل بھی وزیرِ اعظم رہیں گے۔

اسی بارے میں