’سند جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھوجا ائر کے ریکارڈ، مالکان اور عملے سے تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بھوجا ائر کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو سی ایف ایم آر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے انجینیئر کو سند جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔

تفتشی ٹیم میں شامل وفاقی تحقیاتی ادارے یا ایف آئی اے کے حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پرواز کے لیے طیارہ کو سی ایف ایم آر سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے اور ہر چھ ماہ کے بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔

یہ سرٹیفیکیٹ طیارے کے معائنے کے بعد جاری کیا جاتا ہے جو ائر لائن کا ایک ذمہ دار اہلکار جاری کرنے کا پابند ہوتا ہے۔جس کے پاس ائر کرافٹ انجینیئرنگ کا سرٹیفکیٹ اور سول ایوی ایشن کی سند ہونا لازمی ہے۔

قواعد کے مطابق ائر لائن انجینیئر کی تفصیلات سول ایوی ایشن کو فراہم کرتی ہے، سول ایوی ایشن بورڈ تشکیل دیتا ہے جو اس انجینیئر کے انٹرویو کے بعد سند جاری کرتا ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھوجا ائر نے چیف انجینیئر کوالٹی کنٹرول اشورنس کو یہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لیے اتھارٹی مقرر کیا گیا، ان کا اپریل میں ہی سول ایوی ایشن میں بورڈ ہوا تھا تاہم انہیں ابھی سند جاری نہیں کی گئی تھی۔

حکام کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ طیارہ کا لینڈنگ گیئر خراب تھا جس کی شکایت بھی موجود ہے، یہ طیارہ جنوبی افریقہ میں کام ائر لمیٹیڈ نے گراؤنڈ کر دیا تھا۔

سول ایوی ایشن کے قواعد کے مطابق ایشیائی اور روسی ساخت کے طیارے کی عمر پندرہ سے بیس سال جبکہ مغربی اور یورپی طیارے کی کوئی عمر مقرر کرنے میں ان کی صرف محفوظ پرواز کرنے کی صلاحیت دیکھی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھوجا ائر کے حادثے میں عملے کے ارکان سمیت ایک سو ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھوجا ایئر کے پاس دو بوئنگ اور ایک ڈگلس طیارہ موجود تھا، جن میں سے ایک بوئنگ حادثے کا شکار ہوگیا، سول ایوی ایشن کے قواعد کے مطابق اندرون ملک آپریشن کے لیے کم سے کم تین طیاروں کی موجودگی ضروری ہے۔

بھوجا ائر کے ریکارڈ کے مطابق پاک ایوی ایشن طیارے کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، جبکہ انڈونیشیا اور پی آئی اے سے اوور ہالنگ یا مرمت کرانے کا کہا گیا ہے اس پر عمل درآمد کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

ایف آئی اے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ بھوجا کے ڈائریکٹروں کی طیاروں کے پرزہ جات، موبل آئل اور دیکھ بھال کی اپنی کمپنیاں ہیں، جو یہ سہولیات بھوجا سمیت بعض دیگر ہوائی کمپنیوں کے طیاروں کو بھی فراہم کرتے ہیں۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ طیارہ سکریپ میں تو خرید نہیں کیا گیا، اس کا جواب جنوبی افریقہ سے ہی مل سکتا جب اس کے معاہدے کے کاغذات دیکھے جائیں۔

یاد رہے کہ راولپنڈی میں گزشتہ جمعہ کو بھوجا ائر لائن کا طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔

واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو سونپی گئی تھی، مگر بعد میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا اور ادارے نے تفتیش روک دی۔ تاہم کمیشن ابھی تک اپنی کارروائی کا آغاز نہیں کر سکا ہے۔

اسی بارے میں